Thursday, April 28, 2022

#دیوبند_کی_مشہور_چیز

عصر بعد کی مجلس تھی، ہم طلبہ اس میں شریک، حضرت مفتی سعید احمد پالن پوری نور اللہ مرقدہ حسب معمول نیم دراز، ایک طالب علم سر میں تیل رکھ رہا، آنکھیں بند، طلبہ کی طرف سے ہلکے پھلکے سوالات جاری، اسی دوران مفتی صاحبؒ نے ہمارے غیر اہم سوالات چھوڑ کر اپنی طرف سے ایک سوال اُچھالا: سنو! (قدرے خاموشی، سب طلبہ ہمہ تن گوش) ’’ایک سوال ہے اس کا جواب دو!‘‘ ایک آدمی دیوبند اپنے کسی کام سے آیا، ایک دو دن میں اس نے اپنا کام نمٹایا، آج شام کو اس کی واپسی کی گاڑی ہے، کچھ پیسے اس کے پاس بچ گئے ہیں ، اس نے سوچا کہ واپس جاتے ہوئے ان اضافی پیسوں سے دیوبند کی کوئی مشہور چیز خریدتا چلوں؛ مگر اسے یہ معلوم نہیں کہ دیوبند کی مشہور چیز کیا ہے؟ وہ آپ کے پاس آیا ہے اور آپ سے کہہ رہا ہے کہ مجھے دیوبند کی مشہور چیز کے بارے میں بتاؤ! تاکہ میں اسے خرید سکوں۔ اب تم بتاؤ کہ اسے کیا چیز خریدواؤگے؟

            ہم طلبہ نے اپنے دماغ میں ’’دیوبند کی مشہور چیز‘‘ کو سوچتے ہوئے جواب دینے شروع کیے، کسی نے کہا: حضرت فلاں ہوٹل کا حلوہ بہت مشہور ہے، حلوہ خریدوائیں گے۔ کسی نے کہا: حضرت دیوبند کے بیر بہت مشہور ہیں بیر خریدوائیں گے۔ کسی نے کہا: قاضی مسجد کے نیچے جو ’’پلنگ توڑ‘‘ ملتا ہے، وہ بہت زور دار ہوتا ہے، وہ خریدوائیں گے! مفتی صاحبؒ ہر جواب کے بعد اثبات میں سرہلاتے ہوئے اچھا اچھا کہہ رہے تھے، ایک صاحب نے کہا: حضرت پی پی خریدوائیں گے۔ مفتی صاحبؒ نے وضاحت طلب کی کہ یہ پی پی کیا چیز ہے؟ مجیب نے وضاحت کی کہ حضرت یہ جو آپ کے محلے میں بنتی ہے، بچوں کا کھلونا، جسے بجاتے ہیں تو پی پی کی آواز نکلتی ہے۔ اس پر مفتی صاحبؒ کھل کھلاکر ہنسے اور ماشاء اللہ کہا، ان کے ہنسنے سے اہلِ مجلس بھی ہنسے اور اس ماشاء اللہ کہنے نے بھٹکے ہوؤں کو اور بھٹکادیا، سب سے زیادہ بھٹکے وہ جنھوں نے یہ پی پی والا جواب دیا، ان کو لگا کہ میں نے میدان مار لیا، انھوں نے ابھی سے داد طلب نظروں سے اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھنا شروع کردیا، ہماری کم عقلیاں دیکھیے کہ اس کے بعد تو ہم طلبہ نے خریدوانے کے لیے جن چیزوں کا انتخاب کیا ان کا معیار اور گرتا چلا گیا، ان جوابوں میں کوشش یہ نظر آرہی تھی کہ ہم بھی حضرت کو ہنسائیں، مفتی صاحبؒ اب اثبات میں صرف سر ہلارہے تھے، زبان سے کچھ نہیں کہہ رہے تھے، ہم نے دیوبند کی مشہور چیز کے ذیل میں وہ وہ چیزیں خریدوادیں جو مشہور بھی نہیں تھیں، جب سب طلبہ اپنے اپنے حساب سے جواب دے چکے تو مجلس میں خاموشی ہوگئی، مفتی صاحبؒ نے آنکھ کھولے بغیر پوچھا: کیاسب کے جواب ہوگئے؟ عرض کیا گیا: جی حضرت!.......... پھر خاموشی، اشتیاق کے مارے تھوڑی دیر کی خاموشی بھی گھنٹوں کی خاموشی لگ رہی تھی، پی پی والے طالب علم نے ازخود پوچھ بھی لیا کہ حضرت کونسا جواب سب سے صحیح رہا؟ پھر بھی خاموشی رہی، ہم طلبہ کان اور آنکھ دونوں ان پر جمائے ہوئے، کچھ دیر بعد آپ نے دایاں ہاتھ قدرے اٹھایا اور آنکھ کھولے بغیر ہی گویا ہوئے:

 ’’بے قوفو! کتاب خریدوائیں گے کتاب!.......... کیاتم لوگ دیوبند کی مشہور چیزوں میں کتاب کو شامل نہیں مانوگے؟.......... دیوبند کتابوں کا مرکز ہے، حلوؤں، پلنگ توڑوں اور پیپیوں میں تو تم لوگ گھسا رہے ہو، مگر نہیں لے جارہے تو کتاب خانہ نہیں لے جارہے!

 اتنا کہا اور خاموش ہوگئے۔ یہ جواب سن کر ہم طلبہ ان کی بڑی سی میز کی آڑ میں سرجھکائے اپنی خفت مٹا رہے تھے اور سوچ رہے تھے کہ ہم کہاں خاک میں تھے اور سوال کرنے والا کہاں ثریا پر تھا، ہرچند کہ یہ جواب آپ نے بصارت کی آنکھ کھولے بغیر دیا تھا؛ مگر یہ جواب ہماری بصیرت کی آنکھیں کھول گیا، اب پتہ چلا کہ وہ جو ہنسنا اور ماشاء اللہ کہنا تھا وہ پیرایۂ تبسم میں افسوس تھا، اس سوال کے ذریعہ آپ نے ہمارا قِبلہ درست کیا اور ہماری ترجیحات میں علم اور متعلقاتِ علم کو سرِ فہرست رکھنے کا قیمتی سبق پڑھایا

 اللھم اکرم نزله ووسع مدخله، اللھم انزله منزلا مبارکا و انت خیر المنزلین

Tuesday, April 26, 2022

لیلۃ القدر کے سلسلے میں حضرت قاری صدیق صاحب باندوی رحمۃ اللہ علیہ کا کلام پیشِ خدمت ہے

لیلۃ القدر کے سلسلے میں
حضرت قاری صدیق صاحب باندوی رحمۃ اللہ علیہ کا
کلام پیشِ خدمت ہے

چند دن

چند دن

عبادت کی تھکاوٹیں تو اُتر جاتی ہیں مگر نامہ اعمال میں اس کا اجر موجود ہوا کرتا ہے اس لیے ہمیں اس جسم کو خوب تھکانا چاہیے۔

مومن کو چاہیے کہ نیکی کر کر کے تھکے اور تھک تھک کر نیکی کرے۔

پچھلے سال رمضان میں آپ نے جو عبادتیں کیں آج آپ کو اس کی تکلیف اور تھکاوٹ یاد نہیں ہے مگر آپ کے اعمال نامے میں اس کا اجر موجود ہے۔

طبيعت جب بھی سُستی کی طرف جائے، اسے قرآن کے یہ دو لفظ یاد دلاؤ

اَيّامًا مَعْدُوْدَاتٍ

گنتی کے چند دن!!

اب تو واقعی رمضان کے چند ہی دن باقی ہیں۔ تھکا لو خود کو


Saturday, April 23, 2022

جانئے تخمینہ »1981سے لیکر 2077 تک کا چارٹ » عید الفطر کس دن ہوگی؟

ہرنفس کو پاکیزہ بنا دیتا ہے روزہ



ہرنفس کو پاکیزہ بنا دیتا ہے روزہ
آئینہ ایماں کو جلا دیتا ہے روزہ

دنیاوی مشاغِل کو بھلا دیتا ہے روزہ
اللہ سے بندوں کو ملا دیتا ہے روزہ

انسانوں کو عبادت کے لیے کرتا ہے راغب
ہر خواہشِ نفسانی دبا دیتا ہے روزہ

تقوی الہی کی طرف کرتا ہے مائل
خوشنودیِ رحمن سکھا دیتا ہے روزہ

پابند نماز اور تلاوت کا بناکر
اللہ کا محبوب بنا دیتا ہے روزہ

دنیا میں بزرگی کا سبب ہوتا ہے تقوی
انسان کی عظمت کو بڑھادیتا ہے روزہ

ہوجاتی ہے اس سے عملِ نیک کی تجدید
آئین شریعت کے سکھا دیتا ہے روزہ

کیا فلسفہ افطار و سحرکا ہے جہاں میں
ہر ایک نمازی کو بتا دیتا ہے روزہ

جوگیارہ مہینوں میں میسّرنہیں ہوتی
ایک ماہ میں نعمت وہ کھِلا دیتا ہے روزہ

کس طرح سے فاقوں میں گزرتے دن ان کے
احساس غریبوں کا دلا دیتا ہے روزہ

بوڑھوں کو نیا حوصلہ ہوجاتا ہے پیدا
بچوں میں امنگ اور بڑھادیتا ہے روزہ

اظہر ماہِ رمضان ہے اللہ کی نعمت
انسان کو انسان بنا دیتا ہے روزہ

Friday, April 22, 2022

‏آج جمعہ کا بابرکت دن ہے

 ‏آج جمعہ کا بابرکت دن ہے
سورۂ کہف کی تلاوت، درود شریف، استغفار اور دعاؤں کا خاص طور پر اہتمام فرمائیں
رمضان المبارک کی قیمتی راتیں اور مبارک ایام چل رہے ہیں
اللہ تعالیٰ ہمارے صیام و قیام اور زکوٰۃ و صدقات کو بعافیت قبول فرمائے
اللہ تعالیٰ ہر خیر سے ہمیں نوازے
اور ہر طرح کے شرور و فتن سے ہماری مکمل حفاظت فرمائے۔
آمین ثم آمین یارب العالمین

Thursday, April 21, 2022

ZAKAT INFORMATION LIST

ZAKAT INFORMATION LIST
Please ise Aage Bhi Forward Karde. 
Taake Zakat Nikalne Main Sahulat Ho
🔹Rupees. 👉Rs. Ps.
🔹100. 👉 2. 50 
🔹200 👉5. 00
🔹300 👉7. 50
🔹400. 👉 10. 00
🔹500. 👉12. 50
🔹600. 👉15. 00
🔹700. 👉17. 50
🔹800. 👉20. 00
🔹900. 👉22. 50
🔹1000. 👉25. 00
🔹1500. 👉37. 50
🔹2000. 👉50. 00
🔹2500. 👉62. 50
🔹3000. 👉75. 00
🔹3500. 👉87. 50
🔹4000. 👉100.00
🔹4500. 👉112. 50
🔹5000. 👉125. 00
🔹5500. 👉137. 50
🔹6000. 👉150. 00
🔹6500. 👉162. 50
🔹7000. 👉175. 00
🔹7500. 👉187. 50
🔹8000. 👉200. 00
🔹8500. 👉212. 50
🔹9000. 👉225. 00
🔹9500. 👉237. 50
🔹10000. 👉250. 00
🔹15000. 👉375. 00
🔹20000. 👉500. 00
🔹25000. 👉625. 00
🔹30000. 👉750. 00
🔹35000. 👉875. 00
🔹40000. 👉1000.00
🔹45000. 👉1125.00
🔹50000. 👉1250.00
🔹55000. 👉1375.00
🔹60000. 👉1500. 00
🔹65000. 👉1625. 00
🔹70000. 👉1750. 00
🔹80000. 👉2000. 00
🔹90000. 👉2250. 00
🔹1 lakh. 👉2500. 00
🔹2 lakh. 👉5000. 00
🔹3 lakh. 👉7500. 00
🔹4 lakh. 👉10000.00
🔹5 lakh. 👉12500.00
🔹6 lakh. 👉15000.00
🔹7 lakh. 👉17500.00
🔹8 lakh. 👉20000.00
🔹9 lakh. 👉22500.00
🔹10 lakh. 👉25000.00
🔹20 lakh. 👉50000.00
🔹30 lakh. 👉75000.00
🔹40 lakh. 👉1 lakh.
🔹50 lakh. 👉1 lakh 25000
🔹1 crore 👉2 lakh 50000
🔹2 crores 👉5 lakh.

Monday, April 18, 2022

ہریانہ کا گڑگاؤں اور حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ

ہریانہ کا گڑگاؤں اور حضرت مدنی 


ابو سعد چارولیہ

_____________________
کل سے دل و دماغ پر عجیب و غریب کیفیت طاری ہے جسے الفاظ میں بیان نہیں کرسکتا، ہریانہ کے گڑگاؤں میں کسی مسلم فیملی کو فرقہ پرستوں نے گھر میں گھس کر بے دردی سے مارا، عورتوں کی فریادیں سن کر کلیجہ کانپتا ہے، تین سال کے بچے تک کو نہیں چھوڑا گیا،انٹریو اتنا درد ناک تھا کہ مجھ سے سنا نہیں گی. 
حیرت ہے کہ گھر میں پانچ چھ مرد موجود تھے، اگر یہ سب مل کر کسی ایک فسادی کو پیٹ دیتے تو جوابا وہ صرف اچھی خاصی مارکھاتے، جو وہ یوں بھی کھانے والے تھے، مگر آئندہ کے لیے فرقہ پرستوں کے حوصلے پست ہوجاتے اور یہ قربانی عامۃ المسلمین کے لیے بڑی سود مند ثابت ہوتی. 

ہریانہ کے اس واقعے کو سن اور پڑھ کر فورا شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ کی وہ للکار و صدا یاد آگئی جو اس مردِ قلندر نے آزادی کے بعد پھوٹ پڑنے والے فساد کے دوران دیوبند کی جامع مسجد سے مسلمانانِ ہند کے نام بلند کی تھی اور جس نے ڈرے سہمے مسلمانوں میں ہمت و حوصلے کی روح پھونک دی تھی، پڑھیے اور محسوس کیجیے کہ لفظ لفظ اور حرف حرف میں ہمت و حوصلے اور جرات و بصیرت کا کیسا طوفان بپا ہےاور اُس دور کے حالات اور آج کے حالات میں کس قدر مماثلت ہے! پڑھیے اور اُس فقیرِ خدا مست کی روح کو سلام کیجیے جو "قلندر ہرچہ گوید دیدہ گوید" کا مصداق تھا

شیخ الاسلام فرماتے نہیں للکارتے ہیں:
مسلمانو! اگر تم حالات کو ٹھیک ٹھیک سمجھ لو اور اللہ پر بھروسہ کرکے فسادیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے کھڑے ہوجاؤ تو اپنے وطن اور عوام کو تباہی کے اس جہنم سے نکال سکتے ہو.

مسلمانو! آج خوف اور بزدلی کا جو عالم ہے اس کے تصور سے بھی شرم آتی ہے، گھروں میں بیٹھے ہوئے ڈرتے ہو! راستہ چلتے ڈرتے ہو! اپنی بستیوں میں رہتے ڈرتے ہو! کیا تم انہیں بزرگوں کے جانشین ہو جو اس ملک میں گنی چنی تعداد میں آئے تھے جب یہ ملک دشمنوں سے بھرا ہوا تھا؟ آج تم چارکروڑ کی تعداد میں اس ملک میں موجود ہو، یوپی میں تمہاری تعداد پچاسی لاکھ ہے، پھر بھی تمہارے خوف کا یہ عالم ہے کہ سر پر پاؤں رکھ کر بھاگ رہے ہو! آخر کہاں جارہے ہو؟ کیا تم نے کوئی ایسی جگہ ڈھونڈ لی ہے جہاں موت تم کو نہیں پاسکتی؟ جُبن، بزدلی اور خوف کو اپنے دل سے نکال دو، اسلام اور بزدلی ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے، صبرواستقلال کے ساتھ مصائب کا مقابلہ کرو، *کبھی فساد کی ابتداء مت کرو، *اگر فسادی خود تم پر چڑھ آئیں *تو ان کو سمجھاؤ، لیکن اگر *وہ نہ مانیں اور کسی طرح باز نہ آئیں تو پھر تم معذور ہو، *بہادری کے ساتھ ڈٹ کر مقابلہ کرو اور اس طرح مقابلہ کرو کہ *فسادیوں کو چھٹی کا دودھ یاد آجائے،تمہاری تعداد خواہ کتنی ہی تھوڑی ہو، مگر قدم پیچھے نہ ہٹاؤ اور اپنی غیرت و حرمت کی حفاظت کرتے ہوئے جان دے دو، *یہ عزت اور شہادت کی موت ہوگی*، اس ملک کو تم نے خون سے سینچا ہے آئندہ بھی اپنے خون سے سینچنے کا عزم رکھو، یہی ملک سے حقیقی وفاداری ہے، اس ملک پر تمہارا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا کسی دوسرے باشندے کا.

وفاداری کے اظہار کا جو ڈھنگ تم نے اختیار کررکھا ہے وہ نہ مفید ہے اور نہ ضروری، آج ملک کے ساتھ وفاداری یہ ہے کہ ترقی پسند جماعتوں کے ساتھ فرقہ پرستی کے جراثیم کا خاتمہ کردو، وفاداری کے پرانے طور رفیق اب بدل چکے ہیں، اب افسرانِ حکومت یا حکومت کے ساتھ وفاداری کے کوئی معنی نہیں، جب تک اس ملک میں جمہوریت کا نام و نشان باقی ہے حکومت ہم خود ہیں،وزرائے حکومت کو ہم نے اپنے ووٹوں سے منتخب کرکے بھیجا ہے، تاکہ وفاداری کے ساتھ ملک اور اہلِ ملک کی خدمت کریں، یہ ثابت کرنا ان کا فرض ہے کہ وہ عوام کے وفادار اور ملک کے سچے خیر خواہ اور خادم ہیں، ہم کو ان سے باز پرس کا حق ہے، پھر اس غلامانہ وفاداری کا کیا مطلب؟
بلاشبہ ملک کے ساتھ وفاداری ملک میں ہر بسنے والے کا قومی فریضہ ہے، لیکن اس وفاداری کا معیار کسی خاص مذہب یا نظریے کی پیروی نہیں ہے، کیا ہندوستان کی آزادی کے لیے مسلمانوں نے خون نہیں بہایا؟ کیا یہاں رہنے والے سب اس ملک کے وفادار رہے ہیں؟
اس لیے مسلمانو! ڈرو نہیں، حق کے ساتھ رہو اور بہادری و ہمت سے حالات کا مقابلہ کرو اور ضرورت پڑنے پر مقابلہ کرتے ہوئے جان دینا پڑے تو دے دو کہ یہی ملک وملت کے ساتھ وفاداری کا تقاضا ہے 
(مآثرِ شیخ الاسلام)