چند دن
عبادت کی تھکاوٹیں تو اُتر جاتی ہیں مگر نامہ اعمال میں اس کا اجر موجود ہوا کرتا ہے اس لیے ہمیں اس جسم کو خوب تھکانا چاہیے۔
مومن کو چاہیے کہ نیکی کر کر کے تھکے اور تھک تھک کر نیکی کرے۔
پچھلے سال رمضان میں آپ نے جو عبادتیں کیں آج آپ کو اس کی تکلیف اور تھکاوٹ یاد نہیں ہے مگر آپ کے اعمال نامے میں اس کا اجر موجود ہے۔
طبيعت جب بھی سُستی کی طرف جائے، اسے قرآن کے یہ دو لفظ یاد دلاؤ
اَيّامًا مَعْدُوْدَاتٍ
گنتی کے چند دن!!
اب تو واقعی رمضان کے چند ہی دن باقی ہیں۔ تھکا لو خود کو
No comments:
Post a Comment