یادوں کی چنگاریاں
زخمی نقوش از ابوسعد چارولیہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــ
پھر نظر میں پھول مہکے، دل میں پھر شمعیں جلیں
پھر تصور نے لیا اس بزم میں جانے کا نام
خدا جانے آج کیوں عبارت آرائی کو جی نہیں چاہ رہا ، دیکھ رہا ہوں کہ تعبیرات کے قافلے دل و دماغ سے یکسر غائب ہیں، اشعار کی بے وفائی کا دور دورہ ہے، قلم کاغذ لے کر بیٹھتا ہوں تو حسین تعبیرات کے بجائے مولانا کا حسین سراپا آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے :
مائل بہ فربہی جسم، دراز قد،سفید ریش،چوڑی پیشانی، اٹھتی ہوئی ناک ، آنکھوں پر لگی ہوئی عینک،داغہائے چیچک کے باوجود چہرے پر کشش،ہشاش بشاش مکھڑا، سر پر منکسر المزاج دوپلی ٹوپی ، جسم پر کشادہ کرتا اور سادی سی ازار یا تہہ بند، ہاتھ میں عصااور پاؤں میں جسامت کے مناسب نعلین،جب تک قوی ساتھ دیتے رہے رفتار ایک خاص قسم کا وقار لیے ہوئے رہی اور جوں جوں قوی ساتھ چھوڑتے رہے رفتار میں دھیماپن غالب آتا گیا،گمبھیر آواز کے مالک،بولتے نہیں تھے گل فشانی کرتے تھے، بول چال کے لیے ایک مخصوص لہجہ تھا جو سامع کو مسحور کیے دیتا، ہر ہر جز بالتفصیل بیان فرماتے، درس سے لے کر نجی گفتگو تک کہیں کوئی ایچ پیچ نہ تھی، خدام کو بھی ہر بات اتنی وضاحت سے فرماتے کہ کسی قسم کی غلط فہمی کی گنجائش نہ رہتی،درسگاہ میں دستی رومال سے بار بار سر پونچھنا گویا معمول تھا،ہاتھ بھی بکثرت ریش مبارک کی طرف اٹھتا،درس کی پابندی میں اپنی مثال آپ تھے، درس کا آغاز مسنون خطبے سے فرماتے، ہر فن کی کتابیں پڑھاتے ؛البتہ فقہ سے خصوصی دلچسپی تھی، اختلافِ مسالک اور ان کے دلائل نوکِ زبان تھے، جب درس شباب پر آتا تب تقریر کی سلاست و روانی پہ سوجان سے قربان ہونے کو جی چاہتا،عبارت کا تجزیہ کرتے وقت لغوی نحوی اور صرفی تحقیقی مولانا کے مزاج کا حصہ بن گیا تھا، ہر کام شروع کرتے وقت بسم اللہ پڑھتے بہت سی مرتبہ اس قدر زور سے پڑھتے کہ قریب بیٹھے تمام ہی شاگردان بآسانی سن لیتے اور یوں غیر شعوری طور پر تربیت ہوتی رہتی، مزاحیہ یا پُر لطف قصہ بیان فرمانے سے قبل ہنس پڑتے یا نیچے دیکھ کر ذو معنی انداز میں مسکرادیتے اور پھر دھیرے سے اس" مسکراہٹ "کا شانِ نزول بالتفصیل نازل ہوتا، اکابرین و اسلاف کے واقعات بیان کرکے ان سے محبت و عشق کی ترغیب کا اتنی کثرت سے معمول تھا کہ گویا سبق کا جزو بن گیا تھا، مبدأ فیاض سے حافظہ بھی غضب کا پایا تھا ،چند سالوں پہلے سنایا ہوا قصہ جب دوبارہ ارشاد فرماتے تو سابقہ تفصیلات سے سرِ مو انحراف نہ ہوتا، حضرت شیخ زکریا رح سے جنون کی حد تک عشق تھا ،جب ان کا ذکرِ خیر آجاتا تو طلبہ قلم بندکرکے بیٹھ جاتے کہ اب گھنٹہ بھر یہ محفل "صالحین"کے ذکر سے کشتِ زعفران بنی رہے گی ،طلبہ کی یہ ہمہ تن توجہ مولانا میں ایک روح پھونک دیتی اور پھر حضرت شیخ اور سہارنپور کا ایسا تذکرہ فرماتے کہ نادیدہ بندہ؛ دیکھا ہوا محسوس کرے اور دیدہ اپنے دیکھے ہوئے پر شرمندہ ہو کہ شیخ اور سہارنپور کا تذکرہ یوں بھی کیا جاسکتا ہے ،ایک ایک گلی، ایک ایک کوچہ اور ایک ایک عمارت کا نام نوکِ زبان ہوتا اور جھوم جھوم کے اپنے مخصوص انداز میں بے دھڑک بولتے چلے جاتے ،اسی محویت کے عالم میں گھنٹی بجتی تب طلبہ کو پتہ چلتا کہ شیخ زکریا کے عشق کی چنگاری ہمارے دل میں بھی فروزاں کرگئے، جامعہ کی تاریخ کے امین تھے یادِ ماضی کے اوراق سے " گاہے گاہے باز خواں ایں قصۂ پارینہ را " کے طور پر جب کبھی کوئی ایک آدھ صفحہ کھل جاتا تو پھرہر طرف " تازہ خواہی داشتن داغہائے سینہ را" کا ظہور ہوتا، عطر کی سنت سے حددرجہ لگاؤ اور محبت تھی،درس کے آغاز سے قبل عطر کی شیشیاں قطار اندر قطار ٹپائی پر رکھی اپنی قسمت کے کھلنے کی منتظر رہتیں، جونہی مولانا اٹھاکر ڈھکن کھولتے ساتھ ہی قسمت بھی کھل جاتی، چونکہ عام طور سے عطر طلبہ ہی رکھا کرتے تھے، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی شیشی سامنے کے سامنے دھری رہ گئی ہو ، ہر بوتل میں سے کچھ نہ کچھ حصہ ضرور لگاتے، کسی کا دل توڑنا پسند نہ فرماتے، ہمیشہ "آپ" سے خطاب فرماتے، اظہارِ خفگی کے لیے کبھی کبھار "تو" استعمال فرماتے تو طالب علم کانپ اٹھتا،پڑھنے کے زمانے سے ہی دعوت و تبلیغ سے خصوصی نسبت و تعلق تھا، کاروانِ تبلیغ کی سالانہ آمد کے موقع پر خصوصی اہتمام فرماتے، اکابرینِ تبلیغ سے ملاقات کے لیے خود ان کے پاس تشریف لے جاتے اور عجز و انکساری کا وہ نمونہ دیکھنے ملتا کہ قافلے کے خُرد حضرات شرم سے پانی پانی ہوجاتے اور یہ صرف تبلیغ کی حد تک موقوف نہ تھا؛کسی بھی بزرگ یا اہلِ علم کا بیان ہوتا تو خصوصیت سے محتاج بن کر آپ اس میں شرکت فرماتے، "کیف والی" نماز تھی، کبھی نفلوں میں قرات کرتے تو دیکھ کر ہی لگتا تھا کہ آدمی جنت کے مزے لے رہا ہے ، امام کے بالکل پیچھے صفِ اولی کی پابندی شہرۂ آفاق رہی، اواخرِ عمر کے علاوہ کبھی اس میں تخلف دیکھنے میں نہیں آیا ،ذکر و اذکار اور وظائف کے بڑے پابند تھے، مسنون دعائیں زندگی کا لازمی حصہ تھیں،دعا کرنے اور کروانے کا خاص معمول تھا،خود دعا کرتے تو لگتا کہ آج تو منواکر رہیں گے اور اپنے خُردوں سے دعا کے لیے کہتے یاچٹھی لکھتے تو نہایت انکساری سے دعا کی درخواست ہوتی اور دعاؤں کے جملے بھی بالتفصیل لکھ کر عنایت فرماتے،تواضع و انکساری اور سادگی کا یہ عالم تھا کہ بہتیرے شاگردوں نے مدتوں مولانا کے کپڑوں پر پیوند لگے دیکھے، جوتے ایسے ہوتے جیسے دیہات کا کوئی کاشتکار ہو، زہد و بے رغبتی کا یہ عالم تھا کہ بعض عقیدت مندوں نے مولانا کا نام ہی " ابوذر غفاری" رکھ چھوڑا تھا، سب سے زیادہ دل کو تڑپانے والی، گھنٹوں رلانے والی اور بار بار یاد آنے والی چیز ہے اپنے طلبہ پر شفقت! اب بھی ایسا محسوس ہورہا ہے کہ گویا اپنا سگا باپ داغِ مفارقت دے گیا ہو ویسے بھی مولانا طلبہ کے درمیان "باوا" کے نام سے مشہور تھے، اپنے شاگردوں کی غفلت و کوتاہی سے صرفِ نظر کرنا، ان کی خرمستیوں کو سہہ جانا، کھلی آنکھوں شرارت کرتے دیکھ لینے کے باوجود ایک لفظ نہ کہنا، چھوٹی چھوٹی بات پر اپنے شاگردوں کی حوصلہ افزائی کرنا ، اپنے خُردوں کا اہتمام سے شکریہ ادا کرنا ،بھری مجلس میں اپنے شاگردوں کی سعادتوں کے قصے سنانا ،اور ......اور....... اور جن کے لیے رات بھر خونِ جگر جلا کر مطالعے کی دکان سجائی گئی صبح ان ہی کو سوتے دیکھ کر غصہ پی جانا یہ سب وہ چیزیں ہیں جنہیں یاد کرکے مدتوں دل روئے گا، آنکھیں بہیں گی ،جگر تڑپے گا ؛لیکن کیا کرے کہ وہ "صاحبِ اوصاف حجازی" دوبارہ نہ آئے گا !کاش ! ہم نے ان کی قدر کی ہوتی کاش! ہم نے اس ہیرے کو جانا ہوتا کاش! اپنے دل کی سرد انگیٹھی کو اس کے شررِ آتش سے سلگایا ہوتا کاش! یہ "کاش" ہمیں فائدہ پہنچاسکتا ـ
دنیا بھر میں پھیلے مولانا کے خوشہ چینوں کو آپ کی زندگی یہ پیغام دے گئی کہ "یوں جیا اور مراجاتا ہے"
بات سے بات نکلتی جارہی ہے ،کیا کریں کہ مشفق استاد کی یادیں ہی اس قدر حسین ہیں کہ کھوئے رہنے کو جی چاہتا ہے ،اس" مرگِ ناگہاں "پر یقین نہیں آتا، ہاں! وہ تھے ہی ایسے کہ انہیں یاد ہی کیا جاتا رہے، بعید نہیں کل کو اگر کوئی ہفتم ششم کا طالب علم گھنٹی بجنے پر دیوانہ وار لفٹ کی طرف دوڑ پڑے کہ مولانا آرہے ہیں!!!!!!!!!!اور یہ کہتے ہوئے واپس لوٹنا پڑے کہ
تلاش ِ گُم شدگاں میں نکل چلوں، لیکن
یہ سوچتا ہوں کہ کھویا ہُوا تو میں بھی ہوں
بس! سوائے اس کے اور کیا کہیں کہ
نظر نظر بیقرار سی ہے نفَس نفَس میں شرار سا ہے
میں جانتا ہوں کہ تم نہ آؤگے پھر بھی کچھ انتظار سا ہے
او جنت میں اپنا دائمی گھر بسانے والے یوسف!
کبھی تو آؤ ! کبھی تو بیٹھو! کبھی تو دیکھو! کبھی تو پوچھو
تمہاری بستی میں ہم فقیروں کا حال کیوں سوگوار سا ہے