Monday, July 3, 2017

ارمانوں کا خون، غبارِ خاطر؛ از: ابو سعد چارولیہ

ارمانوں کا خون


        غبارِ خاطر؛از:ابو سعد چارولیہ

----------------------------------

آج صبح ہی سے گھر پر ایک خاص قسم کی ہلچل تھی،کوئی بھاگ رہا ہے ،کوئی دوڑ رہا ہے ،کوئی بازار میں سامان لینے جارہا ہے ـ ابّا آج صبح سویرے بغیر نہائے دھوئے کام پہ نکل گئے ، بڑی بہن کی پھرتی قابلِ دید تھی ، وہ امّی کے ساتھ مل کر ٹفن تیار کررہی تھی ،چھوٹی بہن ادھر سے ادھر کودتی جارہی تھی کہ بھیّا آج مدرسے کو جائیں گے، اتنے میں چھوٹے بھائی کی آواز آئی:  امّاں! میں بھیّا کے لیے ناشتہ اور ضروری چیزیں لے آتا ہوں ـ
غرض یہ کہ گھر بھر میں عید کا سماں تھا اور ایک مابدولت تھے جو گال پُھلائے ،شکنیں چڑھائے ،زمانے بھر سے بیزار بیٹھے تھے ،دل میں تو بار بار آرہا تھا کہ آج تو جی کڑاکے کہہ ہی دیں: " مجھے مدرسہ وَدَرسہ نہیں جانا ،تم لوگ یہاں مزے کرتے ہو اور میں میلوں دور وہاں جھک ماری کرتا ہوں، بہت ہوگیا، اب کے میں کسی بھی حال میں مدرسہ نہیں جاؤں گا " دل ہی دل میں طرح طرح کے خیالات آتے اور جاتے رہے ،دماغ وسوسوں کا جال بُنتا اور پھر خود بہ خود ٹوٹ جاتا، قسمہا قسم کے ڈائیلاگز ذہن میں کُلبلاتے اور پھر بلّی کی گردن میں گھنٹی باندھنے کا موقع آتا تو اپنی موت آپ مرجاتے ـ  اسی سوچ بچار میں کوچ کا وقت ہوگیا اوپرے دل کے ساتھ دولقمے مارے اور اٹھ گیا، بے چاری امّی پکارتی رہی کہ بیٹا! سفر ہے کچھ تو کھالو ؛مگر یہاں گھر چھوڑنے کے غم کے ساتھ غصہ اِس پر بھی تھا کہ ابّا نے صرف دوہزار روپے کیوں دیے ؛لہذا اس غصے کا اظہار ضروری تھا، ابّا یہ سارا ماجرا دیکھ کر سمجھ گئے کہ اصل درد کہاں ہے !بغیر کھائے چپ چاپ اٹھے اور بیڈ روم سے اپنا کرتا اٹھالائے اور جیب میں جتنے پیسے تھے ریزگاری سمیت (تین سو روپے)سب نکال کر دے دیے ؛یہاں تک کہ آخر میں ایک روپیہ کا سکّہ نکل آیا وہ بھی دے دیا، خدا جانے !ذہن پر کس قسم کا بھوت سوار تھا کہ کچھ سوچے بِنا وہ ایک روپیہ بھی لے لیا، کن اَکھیوں سے دیکھاکہ گھر کے سبھی افراد کو میری یہ حرکت نہایت ناگوار گذری؛ مگر کسی نے کچھ کہا نہیں تو میں نے بھی اس خیال کو ایسے ہی جھٹک دیا جیسےبے وقت آئی ہوئی  مکّھی اڑائی جاتی ہے
خیر! ابا تو ایک لقمہ  بھی نہ کھاسکے تھے ،امّی نے بھی زبردستی دو لقمے ٹھونسے اور اٹھ گئیں، سب لوگ ہاتھ دھوکر مابدولت کو رخصت کرنے کے لیے تیار ہوگئے چھوٹے بھائی نے -- جسے پچھلے مہینے فیس نہ بھرنے کی وجہ سے اسکول سے نکال دیا گیا تھا -- بیگ اٹھایا، امّی نے مسکراتے ہوئے ڈھیر ساری دعاؤں سے نوازا اور ماتھا چوم کر بَلائیں لیں، ابّو نے سر پر ہاتھ پھیرا، کچھ نصیحتیں کیں، جس کا آخری جملہ یہ تھا:"بیٹا! محنت سے پڑھنا، وقت ضائع مت کرنا ،ہم بڑی مشقّتوں سے تمہیں پڑھا رہے ہیں" نہ جانے اس جملے میں کیا کسَک تھی کہ بے اختیار آنکھیں اوپر اٹھ گئیں اور دل کانپ کر رہ گیا ،ابّو کا چہرہ گو سپاٹ اور ہر قسم کے تأثرات سے خالی تھا؛ تاہم آنکھوں میں چھپا درد جھلک رہا تھا ؛بلکہ چھلکنے کو تھا، ہونٹوں پہ زخمی تبسّم تھا اور آنکھوں میں درد کے سائے لہراہے تھے ، امّی تو ہر مرتبہ کی طرح اس بار بھی رودی تھی، قبل اس کے کہ مجھ سنگ دل کی آنکھیں اپنا کام کرتیں دھیمی آواز سے سلام کرکے تیزی سے زینے اترگیا ـ
آج پہلی مرتبہ چھوٹا بھائی خاموش تھا میں نے چھیڑا تو اسے بھی آج ہی اُبَلنا تھا ،کہنے لگا:  بس بھیّا! کیا بتائیں! آپ کے جانے کے بعد گھر کی کیا حالت ہوتی ہے! آپ کے جاتے ہی چھوٹی بہن پھوٹ پھوٹ کر رودیتی ہے، امّی بیڈ روم میں جاکر بستر پر اوندھے منہ گر جاتی ہیں،  بڑی بہن بالکنی میں کھڑے کپڑوں کے بجائے آنسو سُکھارہی ہوتی ہے، ،ابّو ان سب کو چھوڑ کر پتہ نہیں کیوں ہمیشہ باتھ روم میں چلے جاتے ہیں، تمہارے جانے کے بعد اکثر گھر میں آٹھ آٹھ دن تک صرف کھچڑی پکتی ہے جسے سب گھر والے اَچار یا چٹنی کے ساتھ ملاکر کھالیتے ہیں، سب سے برا حال گھر پر امّی کا ہوتا ہے ،بسااوقات تین تین دن تک کچھ کھاتی نہیں ہے، ایک چپ سی لگ جاتی ہے، پورا پورا ہفتہ گذر جاتا ہے اور ہم لوگ امّی کے منہ سے ایک جملہ سننے کو ترس جاتے ہیں ،رات کو چپکے چپکے میں دیکھتا ہوں، امّی کروٹیں بدلتی رہتی ہیں،
تمہیں پتہ ہے ایک مرتبہ اچانک رات کو مری آنکھ کھلی ، کسی کے رونے کی آواز آرہی تھی ، دیکھا کہ امّی جان مصلّے پر بیٹھی دعا مانگ رہی ہیں، میں قریب ہی تھا ،ہچکیوں کے درمیان صرف اتنا سن پایا کہ اے اللہ!  میرا معاذ.....
صبح جب میں نے ابّو کو قصہ سنایا تو ابّو کہنے لگے: بیٹا! تمہاری امّی تو بیسیوں مرتبہ رات کو اچانک اٹھ کر بیٹھ جاتی ہے، میں پوچھتا ہوں کہ کیا ہوا ؟ توروتی ہوئی بڑی بے بسی سے کہتی ہے: بس! یونہی اچانک خیال آگیا کہ میرے معصوم بچے نے کھایا بھی ہوگا یا نہیں!  اسے کوئی ستاتا تو نہ ہوگا! وہ اگر بیمار ہوگیا تو میرے لختِ جگر کو کون دیکھے گا" اسی قسم کے جملے کہہ کہہ کر خود بھی روتی اور مجھے بھی رلاتی ہے اور جس رات یہ قصہ پیش آتا ہے پھر وہ رات میری اور تمہاری امّی کی مصلّے پر گذر جاتی ہے "ـ
چھوٹا بھائی اپنی رَو میں یہ سب سناتا جارہا تھا اور میں حیرت و تعجّب کے مارے بُت بنا اپنی جگہ کھڑا تھا چھوٹے بھائی نے کہا: بھیّا! جس دن ہم بہن بھائی رات کو کھاپی کر فارغ بیٹھتے ہیں تو سب سے زیادہ تمہاری باتیں کرتے ہیں اور امّی کھل کر تمہارے بچپن کے قصے سناتی ہیں اور ہر مرتبہ ابّو اخیر میں اٹھتے ہوئے یہ کہتے ہیں: "تم لوگ دیکھنا ایک دن میرا بیٹا بہت بڑا عالم بنے گا" ـ
مجھ پر یکے بعد دیگرے حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹے جارہے تھے اور رفتہ رفتہ حیرت کی جگہ ندامت و شرمندگی لے رہی تھی ـ بلڈنگ کے نیچے کھڑے کھڑے ابھی یہ باتیں چل ہی رہی تھیں کہ میرا جگری دوست خالد آدھمکا اور اپنے  بے تکلّفانہ انداز میں کہنے لگا: "بس کیا یار! اتنی جلدی چل دیے، ابھی تو آئے تھے " میں مسکرا کے ٹال گیا تو اسے کچھ یاد آگیا ،کہنے لگا:یار! آج صبح غضب ہوگیا ،تمہارے ابّو صبح سویرے حاجی جنید کے سامنے سر جھکائے کھڑے تھے اور حاجی چلّا چلّا کر کہہ رہا تھا کہ :"صبح صبح بھکاری قرض مانگنے آجاتا ہے، حیثیت نہیں ہے تو اپنے بیٹے کو نوکری پہ لگا ،کیوں حرام کا مدرسے میں ڈال رکھا ہے اور اس سے پہلے والے سال بھی تو بچے کے بہانے قرض لے گیا تھا وہ تو ابھی تک نہیں دیے ...اور پتہ نہیں حاجی کیا کیا بَکتا رہا ، اخیر میں کالر پکڑ کے اس نے ابّا کو ایک تھپّڑ مار دیا اور جیب سے دو ہزار کی نوٹ نکال کر یہ کہتے ہوئے منہ پر ماری کہ :لے بھکاری!  آئندہ ہفتے کسی بھی حال میں مجھے سب پیسے واپس چاہیے " ابّو نیچے گری ہوئی نوٹ اٹھاکر سر جھکائے آگے بڑھ گئے ،صبح کا وقت تھا ،سنّاٹا تھا ،یہ منظر میرے سوا کسی نے نہیں دیکھا ،مجھ سے برداشت نہ ہوسکا ،میں نے لپک کر پوچھا: چچا جان! آپ تو محلّے کے شریف اور عزّت دار آدمی ہیں، آخر اس کمینے حرامی بُڈّھے سے اتنا دَبنے کی کیا ضرورت ہے !یہ سب ذلّتیں کیوں برداشت کررہے ہیں! کیا ہم دوست لوگ مل کر اس بڈّھے کو ٹھکانے لگادے؟! ابّاجی کی آنکھ میں آنسو آگئے ،کہنے لگے: نہیں جی! اگر میں دو ہزار لے کر نہیں گیا تو میرا بیٹا مدرسے میں نہیں جاپائے گا اور میں اس کو پڑھا کر جنّت کمانا چاہتا ہوں دائمی جنّت کے لیے عارضی ذلّت برداشت کررہا ہوں "ـ
یہ قصہ سن کر میرا حال یہ تھا کہ کاٹو تو بدن میں خون نہیں ،میری نظروں کے سامنے گھر سے نکلتے وقت پیسوں والا قصہ گھوم گیا ،میں اپنے آپ کی نظر میں ذلیل ہوگیا تھا ،چھوٹا بھائی مجھے دیکھ رہا تھا ؛مگر میں اس سے نظر ملانے کے قابل نہ تھا،مجھے زمین اپنے پیروں تلے کھسکتی ہوئی محسوس ہوئی ،خالد تو یہ حادثہ سنا کر چلا گیا اور چھوٹا بھائی بیگ اٹھاکر چپ چاپ آگے کو چل دیا ،میں بوجھل قدموں کے ساتھ اس کے  پیچھے پیچھے ہولیا ـ
مسجد کے قریب ہی ناظرے کے بوڑھے استاد مل گئے ،انہوں نے بڑی شفقت کے ساتھ سر پر ہاتھ پھیرا ،دعائیں دیں اور کہا کہ :"بیٹا! محنت سے پڑھنا ،بڑی مدت کے بعد اس بستی سے کوئی عالم بنے گا، تم سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں، تم ہماری پونجی ہو ،اپنے آپ کو ضائع مت کردینا" میں انہیں کیا جواب دیتا کہ اب تک کی زندگی تو ضائع ہی کیے جارہا تھا ـ
بستی سے نکلتے وقت اچانک کسی نے آواز دی ، رک جاؤ بیٹا! مڑ کر دیکھا تو بستی کے بوڑھے باباجی تھے ، بڑی مشکل سے چوراہے پہ بچھی چارپائی سے اٹھے ، لکڑی کے سہارے سہارے ٹیک لگاتے ہوئے آئے، قریب آکر محبت پاش نظروں سے دیکھا اور آبدیدہ ہوکرکہنے لگے:" تم مدرسہ جاتے ہو تو دل بڑا خوش ہوتا ہے ، بیٹا! ہم گنہگاروں کے لیے دعا کرنا ،اپنی زندگی میں تو کچھ نہ کرپائے اب تم جیسے بچوں کے سہارے جی رہے ہیں کہ جنت میں تم جاؤگے تو تمہارا دامن پکڑ کر پیچھے پیچھے ہولیں گے ،دیکھیو! اس دن اپنے گنہگار باباجی کو بھول مت جانا " بندہ سر جھکائے شرمندگی کے ساتھ ان کی گزارشات سنتا رہا اور اپنی حالت پر افسوس کرتا رہا  ـ
اس کے بعد ہم آگے بڑھے، اسٹینشن پہنچے،ٹرین نکلنے کو تھی، میں جلدی سے لپک کر چڑھا ، بھائی نے باہر سے بیگ پھینکا اور ٹرین فرّاٹے بھرتی ہوئی تیزی سے دوڑنے لگی ، میں سامان وہیں دروازے پر چھوڑ کر کھڑا ہوگیا  محبوب وطن کی گلیاں نگاہوں کے سامنے سے گذر رہی تھیں ، کبھی ابّو جی کا غمزدہ چہرہ سامنے آجاتا ، کبھی روتی ہوئی امّی یاد آجاتی ، کبھی چھوٹی بہن کا سراپا نگاہوں کے سامنے گھوم جاتا، کبھی چھوٹا بھائی ہاتھ لہراتا نظر آتا، کبھی شفقت فرماتے ہوئے مکتب کے استاد جی دکھائی دیتے اور کبھی بابا جی کی لجاجت بھری درخواست جگر کے ٹکڑے ٹکڑے کردیتی ،پھر پتہ نہیں اچانک مجھے کیا ہوا کہ میں دروازے پہ کھڑے کھڑے پھوٹ پھوٹ کر اتنا رویا کہ شاید وباید ہی کبھی زندگی میں اتنا رویا ہوں گا ـ یہ احساسِ زیاں کے آنسو تھے جو اب تک کی ضائع شدہ زندگی پر بہہ رہے تھے، یہ اپنوں کے ارمانوں کا خون تھا  جو آنسو کی شکل میں جاری تھا ـ

پیارے طالب علم بھائیو! بے شک مذکورہ بالا سطریں تخیلاتی ہیں ؛ لیکن اگر گھر سے نکلتے وقت عبرت کی آنکھیں کھلی رکھی جائیں ، اپنے گِرد و پیش پر نظر دوڑائی جائے تو یہ سارے مناظر کھلی آنکھوں دیکھے جاسکتے ہیں ، جب تم گھر سے نکلو تو ابّا کی زخمی مسکراہٹ کو غور سے دیکھا کرو، تمہیں ان میں کچھ اَن کہی کہانیاں نظر آئیں گی،کبھی غور کیا کہ امّی کے ہونٹ مسکراتے ہوئے کپکپا کیوں جاتے ہیں ! کبھی سوچا کہ بہن دروازے تک کیوں نہیں آتی ؛ اس لیے کہ کہیں اس کے آنسو دیکھ کر تمہارے حوصلے چھوٹ نہ جائے ،گھر کا ہر فرد لاکھ غموں کے باوجود خوشی خوشی تمہیں رخصت کرتا ہے ؛ صرف اس لیے کہ تمہاری ہمت نہ ٹوٹ جائے ؛ ورنہ کون بھائی بہن ہیں جو اپنے بھیّا کی جدائی پر نہ روئے !کون باپ ہے جو اپنے جگر کے ٹکڑے کی فرقت پر ہنس رہا ہو! اور دوستو! کونسی ماں ہے جو لب پر تبسّم سجائے اپنے پیارے بیٹے کی جدائی دیکھتی رہے بخدا!  بخدا!  بخدا! ان سب پر ہماری جدائی شاق ہے ،ابّو جی کو محلّے کے ذلیل آدمی سے گالیاں کھانے کا شوق نہیں چراتا ،وہ ہمارے لیے گالیاں سنتے ہیں، وہ صرف اور صرف ہمارے لیے پسینے میں ڈوب کر محنت کرتے ہیں ،مکتب کے استاد جی دوہزار کی تنخواہ پر برسوں سے ٹِکے ہوئے ہیں؛ صرف اس تمنّا میں کہ بستی کا کوئی بچہ میری نظروں کے سامنے عالم بن کر آجائے اور اس امانت کو سنبھال لیں ، باباجی سے پوری بستی ڈرتی ہے ؛ مگر وہ تمہارے سامنے صرف اس لیے جھکے ہوئے ہیں کہ ان کی جنّت کا سوال ہے !
دوستو! آؤ! گریبان میں منہ ڈال کر سوچیں کہ کیا ہم اس قابل ہیں کہ کسی کی جنّت کا سامان کرسکیں!  کیا ہمارے پاس ایک سجدہ بھی ایسا ہے جس میں خدا کے سوا کسی کا خیال نہ آیا ہو! جو ماں ہمارے لیے بیسیوں مرتبہ اٹھ کر روتی ہے کیا ہم نے پورے سال میں کبھی ایک مرتبہ بھی اس پیاری امّاں کے لیے ہاتھ اٹھائے! ہم کیسے سنگ دل بیٹے ہیں!  ماں کے نام پر تو ساری دنیا کا دل پگھل جاتا ہے مگر ہم اپنی خواہشوں میں ایسے مدہوش ہیں کہ ماں تک کی قربانیوں کا ہمیں احساس نہیں! کیا ایک موبائل کی اتنی وقعت ہے کہ اس کے پیچھے اتنے سارے لوگوں کی قربانیاں ضائع کردی جائیں! کیا ہماری بیہودہ گپ شپ اتنی قیمتی ہے کہ ہم کسی کے ارمانوں کا خون کردیں! کیا مدرسے کے عارضی دوستوں کی اتنی قدر ہے کہ ان کے لیے پڑھائی چھوڑ کر اپنوں کی تمناؤں کا جہاں اجاڑ کر رکھ دیں!
کب تک بے مقصد زندگی جئیں گے ! کب تک مدرسے میں پڑے پڑے اپنی اور دوسروں کی زندگی ضائع کریں گے!
یاد رکھو دوستو! آج اگر ہم کسی کے ارمان کا خون کرتے ہیں تو کل کو ہمارے عزیز بھی ہمارے ارمانوں کا خون کریں گے، آج اگر ہم کسی کی قربانیاں رائیگاں کیے بیٹھے ہیں تو کل کو ہماری قربانیاں بھی رائیگاں جائیں گی!
پیارے بھائیو! اُس ابّو کا واسطہ جو  ہمارے لیے ذلّتیں جھیل گیا؛ اُس امّاں کا واسطہ جس کا کوئی پَل ہماری یاد کے بغیر نہیں گذرتا ؛مکتب کے اُس شفیق استاد کا واسطہ جن کی دعائیں ہمارے نام کے بغیر پوری نہیں ہوتیں اپنی زندگی پر غور کرو خدارا!وقتی لذّت کے لیے دائمی ذلّت کا سودا نہ کرو ـ
دوستو! آؤ! آج میں اور آپ مل کر ارادہ کرتے ہیں کہ: اب کے مدرسے کی زندگی کچھ الگ زندگی ہوگی، اب کے شب و روز مقاصد کے ساتھ گذریں گے ،اب محفلوں میں اور لغویات میں وقت ضائع نہ ہوگا، اب کے اساتذہ کے احترام میں ذرّہ برابر کمی نہ ہوگی، اب کے ایسی محنت ہوگی کہ دوسروں کو ترس آجائے گا ،اِس مدرسے میں ہم اپنے اللہ کی محبت لینے کے لیے آئیں گے ،اب کے رات کو اٹھ کر روٹھے ہوئے پیارے اللہ سے معافی مانگیں گے، اب کے نافرمانی والی زندگی کے بجائے اطاعت والی زندگی گزاریں گے انشاء اللہ !کہو انشاء اللہ!!!

Tuesday, May 16, 2017

ٹینشن اور ڈپریشن کی کہانی انسان کی زبانی اور اس کا علاجِ روحانی۔۔۔

ٹینشن اور ڈپریشن کی کہانی انسان
کی زبانی اور اس کا علاجِ روحانی۔۔۔

عرفان پالن پوری

میرے ایک دوست بیمار بیمار سے رہنے لگے۔ میں ان کی عیادت اور مزاج پُرسی کے لئے ان کے دولت کدے پر گیا۔۔۔

میں :-  السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.
دوست:- وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
میں:- اوہ آپ تو ماشاءاللہ انتہائی حسین و جمیل، خوبصورت، بُلند قد و قامت، وجیہ چہرہ، خندہ پیشانی، سُرمگیں آنکھیں، عمدہ و خوشنما اور خوشبُودار  پوشاک سے آراستہ پیراستہ، نعمت و آسائش کے پروردہ انسان تهے۔۔

اور آج تو آپ کی حالت قابلِ دید ہے۔۔
ایک خوبرو، سجیلا اور رعنا نوجوان جو کسی نازنین حسینہ کی طرح اپنے وقت کا بیشتر حصہ اپنے سجنے سنورنے میں صرف کرتا تھا آج وہ موٹا، بوسیدہ لباس زیب تن کئے ہوئے ہے، جو جسم نازونعم میں پلا بڑها تها آج وہ خِزاں رسیدہ پتوں کی طرح پیلا پڑگیا ہے، جو چہرہ رعنائی و زیبائی لئے ہوئے تها آج وہ مرجهایا سا نظر آرہا ہے، جو جسم عمدہ عطر اور پاکیزہ خوشبُو میں ڈوبا رہتا تها آج وہ " موتو قبل ان تموتوا " کی تصویر بناہوا ہے۔
یہ آپ کی کیا حالت بن گئی ہے؟ اُداس اُداس، باتوں میں چڑچڑاپن، کسی کام میں دل نہ لگنا، غصہ کا بڑھ جانا، نیند کا کم ہوجانا، خوف بیچینی گهبراہٹ، ہمت اور ارادے کا پست ہوجانا۔۔۔

دوست:- گهبرائی گهبرائی اور سہمی ہوئی آواز میں۔۔
آ...... آ...... آ..... پ کو کیا ب... ب....تاؤں۔۔ ڈاکٹروں اور حکیموں کے چکر لگا لگا کر عاجز آگیا۔۔ مرض کی کوئی تشخیص نہ ہوسکی البتہ اتنا بتایا گیا کہ آپ کو ڈپریشن اور ٹینشن ہے۔۔
ابھی چند روز قبل ایک عامل کو دکهایا۔۔
ان کے سامنے مکمل کیفیت بیان کی۔۔ عامل صاحب فرمانے لگے۔۔ اوہ انا للہ آپ کو تو " اوپرا " اثر ہوگیا ہے۔۔ ایک عامل یوں گویا ہوئے۔۔ اجی آپ پر کسی نے انتہائی درجے کا سخت ترین کالا جادو کردیا ہے۔۔ بس ایک ہی رٹ کہ کسی نے کچھ کرادیا ہے۔۔ ان کے اہلِ خانہ سے یہ سن کر کہ اگر کوئی مکهی بهن بهن کرتی ہے۔۔ تو یہ کہتے ہیں " کوئی جادو کررہا ہے " نہایت تکلیف ہوئی۔۔ میں انہیں تسلی دیتے ہوئے اور آیت شفاء پڑھ کر مریض کے لئے شفایابی کی دعا کرتے ہوئے رخصت ہوا۔۔
گهر آکر غور کرتا رہا، معاشرے پر طائرانہ نظر ڈالی تو ہر ایک شخص اس بیماری یعنی ٹینشن ڈپریشن کا شکار دکهائی دیا۔۔
جس سے پوچهو اجی کیا حال ہے؟ ایک ہی جواب " ڈپریشن میں مبتلا ہوں " کیوں؟ کسی کو کچھ نہیں معلوم۔۔  ڈپریشن کیا ہے؟ سوچا ایک حکیم صاحب سے پوچهوں، معلوم کرنے پر بتایا کہ اس خاموش مرض کی بنیادی وجوہات انسان میں " ناامیدی، بغض، حسد " کا پیدا ہونا ہے - قلب و دماغ متاثر ہوجاتے ہیں۔۔ جس کی وجہ سے انسان اپنی صلاحیتوں کو کهو بیٹھتا ہے۔۔ ڈاکٹروں کے پاس اس کا ایک ہی علاج ہے وہ یہ کہ ایسے انسان کو سکون اور نیند کی گولیاں دےکر اس کا عادی بنادیتے ہیں-

محترم قارئین! دورِ حاضر کا سب سے بڑا مسئلہ سکون اور اطمینانِ قلب کا فقدان ہے۔۔ آج انسان کو آسائش کے وہ تمام وسائل و سامان مہیا ہیں جن کا اس کے آباؤ اجداد نے کبهی تصور بهی نہ کیا ہوگا۔۔
یہ فراٹے بهرتی کاریں، یہ مِیلوں کا سفر مِنٹوں میں طے کرنے والے ہوائی جہاز، یہ نرم و نازک گدے، یہ فریج اور ائرکنڈیشن ، یہ ساؤنڈ پروف بالا خانے اور بنگلے، یہ بہترین اور عمدہ قسم کے مشک و عنبر اور عود سے معطر خُوشنما لباس و پیراہن اور پوشاک، یہ عمدہ عمدہ لذیذ و فرحت بخش مشروبات، یہ مختلف انواع و اقسام کے پهل فروٹ اور خورد و نوش کی اشیاء،
یہ ہمارے آباؤ اجداد کو کہاں حاصل تهیں۔  لیکن اس کے باوجود وہ ہم سے زیادہ مطمئن اور پُرسُکون تهے، اور ہم راحت کے تمام وسائل کے باوجود زیادہ مضطرب و پریشان ہیں۔۔۔
بلکہ کچھ صورتحال ایسی ہوگئی ہے کہ "جتنی زیادہ آسائشیں اتنی ہی زیادہ پریشانیاں "
چنانچہ مضطرب و پریشان دِل انسان نے سکونِ قلب کے لئے بے شمار غلط راستے اختیار کئے مگر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا-
کسی نے سوچا راحت و سکون اقتدار میں ہے، مگر اقتدار حاصل کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ یہاں تو پل بهر کا بهی سکون میسر نہیں۔۔ عبدالرحمٰن اموی جو اسپین میں پچاس سال تک مطلق العنان بادشاہ کی طرح حکومت کرتا رہا، مگر قریب المرگ اس کی زبان پر یہ جملہ تها،
" میں نے اپنی پوری زندگی میں صرف چودہ دن سکون کے دیکهے ہیں "

کوئی سمجھتا ہے کہ سکون دولت کی کثرت میں ہے لیکن ہم آئے دن سنتے رہتے ہیں کہ بڑے بڑے سرمایہ دار اپنے کاروباری مشاغل کی وجہ سے خواب آور گولیاں کهانے کے باوجود نیند کے لئے ترستے رہتے ہیں۔۔
کسی کا خیال ہے کہ اگر انسان کی جنسی خواہشات پوری ہوجائیں تو اسے سکون مل سکتا ہے چنانچہ یورپ میں جنسی خواہشات کے لئے زنا عام کردیا گیا۔ زناکاری اور لواطت کو قانونی تحفظ دے دیا گیا، باہمی رضامندی سے جب چاہیں، جہاں چاہیں، جس سے چاہیں، زنا ہوسکتا ہے، بیویوں کا آپس میں تبادلہ ہوسکتا ہے، عورتیں کرائے پر مل جاتی ہے۔۔ 
کسی کی سوچ یہ ہے کہ منشیات اور نشہ آور اشیاء کے استعمال سے سکون ملتا ہے لیکن کون نہیں جانتا کہ منشیات اور نشہ آور اشیاء نے لاکھوں افراد کو موت کے گھاٹ اُتار دیا ہے۔۔۔
یہ تمام ذرائع انسان کے ٹینشن اور ڈپریشن کو ختم نہیں کرسکتے۔۔ انسان سکون کی تلاش میں دیوانوں اور احمقوں کی طرح مارا مارا پهر رہا ہے،

اب اللہ کی طرف سے آواز آتی ہے۔۔
او میرے پیارے، چہیتے لاڈلے بندے!
تونے دولت کے انبار لگائے مگر تجهے سکون نہ مل سکا۔
تونے وزارتیں اور بادشاہتیں حاصل کرلیں
مگر تجهے سکون نہ مل سکا۔
تونے رقص و سُرور کی محفلیں سجائیں مگر تجهے سکون نہ مل سکا۔
تونے فحشی، عُریانی، اور بدکاری کی انتہا کردی مگر تجهے سکون نہ مل سکا۔
تونے جوئے اور سٹے کا بازار گرم کیا مگر تجهے سکون نہ مل سکا۔ 
تونے ساغر و مینا، شراب، چرس اور بهنگ کا استعمال کیا مگر تجهے سکون نہ مل سکا۔ 
تونے نت نئے فیشن اختیار کئے مگر تجهے سکون نہ مل سکا۔
تونے کهیلوں میں کمال حاصل کیا مگر تجهے سکون نہ مل سکا۔
تونے سمندروں اور صحراؤں کو چهان مارا مگر تجهے سکون نہ مل سکا۔ 
تو چاند ستاروں تک جاپہنچا اور خلا کی سیر کر آیا مگر تجهے سکون نہ مل سکا۔ 
تونے سائنسی تحقیقات سے حیرت انگیز مشینیں بنالیں مگر تجهے سکون نہ مل سکا -
آجا آجا !!! بهولے بهٹکے مسافر! میرے در پر آجا، میں تیرا رب ہوں، میں تیری ضروریات کا کفیل اور مالک ہوں، میں تجھے حصولِ سکون کی راہ دکهاؤں گا۔

او ظلوم و جہول انسان! تو بهی کتنا پگلا ہے، انگاروں پہ بیٹها ہے اور ٹهنڈک کا خواہاں ہے، گندگی کے ڈھیر پر بیٹھ کر چاہتا ہے کہ مجهے خوشبو کے دلنواز جهونکے آئیں، کانٹوں پر بستر بچھایا ہے اور چاہتا ہے کہ چبهن نہ ہو، تیل چهڑک کر تیلی جلاتا ہے اور چاہتا ہے کہ آگ بهی نہ لگے، اپنے خالق و مالک کو بهلا رکها ہے اور چاہتا ہے کہ مجھ پر
پریشانیاں نہ آئیں،
او میرے پاگل بندے! تجهے نہ سیم و زر کی چهناچهن سکون دے سکتی ہے،
نہ تخت و تاج تیرے قلب کے اضطراب کو دور کرسکتا ہے، نہ رقص و سرور،
میوزک اور گانے تیری قلبی بیماریوں کا شافی علاج ہے، نہ زناکاری اور فحاشی تجهے مطمئن رکھ سکتی ہے، نہ منشیات اور نشہ آور چیزیں تیرے قلب و دماغ کو سکون دے سکتی ہے،
اگر تجهے سکون ملا تو میری یاد کی چھاؤں میں ملے گا۔۔ میرے ذکر کی خُوشبُو سے ملے گا۔ تمہیں دل کا سکون اور سچی خوشی الله کے ذکر کے بغیر کبهی حاصل نہیں ہوسکتی،

نہ دنیا سے نہ دولت سے نہ گھر آباد کرنے سے
تسلی دل کو ہوتی ہے خدا کو یاد کرنے سے

جب تک تم گناہوں کو نہیں چهوڑو گے تمہاری پریشانیاں کبهی بھی دور نہیں ہونگی۔۔۔

متفرق اشعار

وه کہنے لگی نقاب میں بھی پہچان لیتے ہو ہزاروں کے بیچ میں
میں نے کہا تیری آنکھوں سے عشق شروع ہوا تھا ہزاروں کے بیچ میں

میرا سیدھا سادھا مزاج تھا مجھے عشق ہونے کی کیا خبر

تیرے اک تبسّم ناز نے میرے سارے ذوق بدل دئیے۔۔۔۔۔۔


​با ہنر لوگ تھے الفاظ کے غازی نکلے​

​کم پڑھے،لکھےتر ے شہرمیں قاضی نکلے​

​کتنی ہوتی ہے بُری و ہم کی بیماری بھی​

جن کو سمجھا تھا شرابی وہ نمازی نکلے.


​وه بهی تڑپ نہ جائے تو اس عشق پہ لعنت..!!​

​هم سے فقط نگاہیں ملانے کی جرأت تو کرے..!!​

Saturday, January 28, 2017

بہترین شعر

نگاہِ عیب گیری سے جو دیکھا اہلِ عالَم کو 
کوئی کافر، کوئی فاسق، کوئی زندیقِ اکبر تھا

مگر جب ہوگیا دل احتسابِ نفس پر مائل 
ہوا ثابت کہ ہر فرزندِ آدم مجھ سے بہتر تھا

Monday, January 2, 2017

یادوں کی چنگاریاں

یادوں کی چنگاریاں

           زخمی نقوش از ابوسعد چارولیہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــ
پھر نظر میں پھول مہکے، دل میں پھر شمعیں جلیں
پھر تصور نے لیا اس بزم میں جانے کا نام

خدا جانے آج کیوں عبارت آرائی کو جی نہیں چاہ رہا ، دیکھ رہا ہوں کہ تعبیرات کے قافلے دل و دماغ سے یکسر غائب ہیں، اشعار کی بے وفائی کا دور دورہ ہے، قلم کاغذ لے کر بیٹھتا ہوں تو حسین تعبیرات کے بجائے مولانا کا حسین سراپا آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے :
مائل بہ فربہی جسم، دراز قد،سفید ریش،چوڑی پیشانی، اٹھتی ہوئی ناک ، آنکھوں پر لگی ہوئی عینک،داغہائے چیچک کے باوجود چہرے پر کشش،ہشاش بشاش مکھڑا،  سر پر منکسر المزاج دوپلی ٹوپی ، جسم پر کشادہ کرتا اور سادی سی ازار یا تہہ بند، ہاتھ میں عصااور پاؤں میں جسامت کے مناسب نعلین،جب تک قوی ساتھ دیتے رہے رفتار ایک خاص قسم کا وقار لیے ہوئے رہی اور جوں جوں قوی ساتھ چھوڑتے رہے رفتار میں دھیماپن غالب آتا گیا،گمبھیر آواز کے مالک،بولتے نہیں تھے گل فشانی کرتے تھے، بول چال کے لیے ایک مخصوص لہجہ تھا جو سامع کو مسحور کیے دیتا، ہر ہر جز بالتفصیل بیان فرماتے،  درس سے لے کر نجی گفتگو تک کہیں کوئی ایچ پیچ نہ تھی،  خدام کو بھی ہر بات اتنی وضاحت سے فرماتے کہ کسی قسم کی غلط فہمی کی گنجائش  نہ رہتی،درسگاہ میں دستی رومال سے بار بار سر پونچھنا گویا معمول تھا،ہاتھ بھی بکثرت ریش مبارک کی طرف اٹھتا،درس کی پابندی میں اپنی مثال آپ تھے، درس کا آغاز مسنون خطبے سے فرماتے، ہر فن کی کتابیں پڑھاتے ؛البتہ فقہ سے خصوصی دلچسپی تھی، اختلافِ مسالک اور ان کے دلائل نوکِ زبان تھے، جب درس شباب پر آتا تب تقریر کی سلاست و روانی پہ سوجان سے قربان ہونے کو جی چاہتا،عبارت کا تجزیہ کرتے وقت لغوی نحوی اور صرفی تحقیقی مولانا کے مزاج کا حصہ بن گیا تھا، ہر کام شروع کرتے وقت بسم اللہ پڑھتے بہت سی مرتبہ اس قدر زور سے پڑھتے کہ قریب بیٹھے تمام ہی شاگردان بآسانی سن لیتے اور یوں غیر شعوری طور پر تربیت ہوتی رہتی، مزاحیہ یا پُر لطف قصہ بیان فرمانے سے قبل ہنس پڑتے یا نیچے دیکھ کر ذو معنی انداز میں مسکرادیتے اور پھر دھیرے سے اس" مسکراہٹ "کا شانِ نزول بالتفصیل نازل ہوتا، اکابرین و اسلاف کے واقعات بیان کرکے ان سے محبت و عشق کی ترغیب کا اتنی کثرت سے معمول تھا کہ گویا سبق کا جزو بن گیا تھا، مبدأ فیاض سے حافظہ بھی غضب کا پایا تھا ،چند سالوں پہلے سنایا ہوا قصہ جب دوبارہ ارشاد فرماتے تو سابقہ تفصیلات سے سرِ مو انحراف نہ ہوتا، حضرت شیخ زکریا رح سے جنون کی حد تک عشق تھا ،جب ان کا ذکرِ خیر آجاتا تو طلبہ قلم بندکرکے بیٹھ جاتے کہ اب گھنٹہ بھر یہ محفل "صالحین"کے ذکر سے کشتِ زعفران بنی رہے گی ،طلبہ کی یہ ہمہ تن توجہ مولانا میں ایک روح پھونک دیتی اور پھر حضرت شیخ اور سہارنپور کا ایسا تذکرہ فرماتے کہ نادیدہ بندہ؛ دیکھا ہوا محسوس کرے اور دیدہ اپنے دیکھے ہوئے پر شرمندہ ہو کہ شیخ اور سہارنپور کا تذکرہ یوں بھی کیا جاسکتا ہے ،ایک ایک گلی، ایک ایک کوچہ اور ایک ایک عمارت کا نام نوکِ زبان ہوتا اور جھوم جھوم کے اپنے مخصوص انداز میں بے دھڑک بولتے چلے جاتے ،اسی محویت کے عالم میں گھنٹی بجتی تب طلبہ کو پتہ چلتا کہ شیخ زکریا کے عشق کی چنگاری ہمارے دل میں بھی فروزاں کرگئے،  جامعہ کی تاریخ کے امین تھے یادِ ماضی کے اوراق سے " گاہے گاہے باز خواں ایں قصۂ پارینہ را " کے طور پر جب کبھی کوئی ایک آدھ صفحہ کھل جاتا تو پھرہر طرف " تازہ خواہی داشتن داغہائے سینہ را" کا ظہور ہوتا،  عطر کی سنت سے حددرجہ لگاؤ اور محبت تھی،درس کے آغاز سے قبل عطر کی شیشیاں قطار اندر قطار ٹپائی پر رکھی اپنی قسمت کے کھلنے کی منتظر رہتیں، جونہی مولانا اٹھاکر ڈھکن کھولتے ساتھ ہی قسمت بھی کھل جاتی، چونکہ عام طور سے عطر طلبہ ہی رکھا کرتے تھے، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی شیشی سامنے کے سامنے دھری رہ گئی ہو ، ہر بوتل میں سے کچھ نہ کچھ حصہ ضرور لگاتے، کسی کا دل توڑنا پسند نہ فرماتے، ہمیشہ "آپ" سے خطاب فرماتے،  اظہارِ خفگی کے لیے  کبھی کبھار "تو" استعمال فرماتے تو طالب علم کانپ اٹھتا،پڑھنے کے زمانے سے ہی دعوت و تبلیغ سے خصوصی نسبت و تعلق تھا،  کاروانِ تبلیغ کی سالانہ آمد کے موقع پر خصوصی اہتمام فرماتے، اکابرینِ تبلیغ سے ملاقات کے لیے خود ان کے پاس تشریف لے جاتے اور عجز و انکساری کا وہ نمونہ دیکھنے ملتا کہ قافلے کے خُرد حضرات شرم سے پانی پانی ہوجاتے اور یہ صرف تبلیغ کی حد تک موقوف نہ تھا؛کسی بھی بزرگ یا اہلِ علم کا بیان ہوتا تو خصوصیت سے محتاج بن کر آپ اس میں شرکت فرماتے، "کیف والی" نماز تھی، کبھی نفلوں میں قرات کرتے تو دیکھ کر ہی لگتا تھا کہ آدمی جنت کے مزے لے رہا ہے ، امام کے بالکل پیچھے صفِ اولی کی پابندی شہرۂ آفاق رہی،  اواخرِ عمر کے علاوہ کبھی اس میں تخلف دیکھنے میں نہیں آیا ،ذکر و اذکار اور وظائف کے بڑے پابند تھے، مسنون دعائیں زندگی کا لازمی حصہ تھیں،دعا کرنے اور کروانے کا خاص معمول تھا،خود دعا کرتے تو لگتا کہ آج تو منواکر رہیں گے اور اپنے خُردوں سے دعا کے لیے کہتے یاچٹھی لکھتے تو نہایت انکساری سے دعا کی درخواست ہوتی اور دعاؤں کے جملے بھی بالتفصیل لکھ کر عنایت فرماتے،تواضع و انکساری اور سادگی کا یہ عالم تھا کہ بہتیرے شاگردوں نے مدتوں مولانا کے کپڑوں پر پیوند لگے دیکھے، جوتے ایسے ہوتے جیسے دیہات کا  کوئی کاشتکار ہو، زہد و بے رغبتی کا یہ عالم تھا کہ بعض عقیدت مندوں نے مولانا کا نام ہی " ابوذر غفاری" رکھ چھوڑا تھا، سب سے زیادہ دل کو تڑپانے والی، گھنٹوں رلانے والی اور بار بار یاد آنے والی چیز ہے اپنے طلبہ پر شفقت! اب بھی ایسا محسوس ہورہا ہے کہ گویا اپنا سگا باپ داغِ مفارقت دے گیا ہو ویسے بھی مولانا طلبہ کے درمیان "باوا" کے نام سے مشہور تھے، اپنے شاگردوں کی غفلت و کوتاہی سے صرفِ نظر کرنا،  ان کی خرمستیوں کو سہہ جانا، کھلی آنکھوں شرارت کرتے دیکھ لینے کے باوجود ایک لفظ نہ کہنا، چھوٹی چھوٹی بات پر اپنے شاگردوں کی حوصلہ افزائی کرنا ، اپنے خُردوں کا اہتمام سے شکریہ ادا کرنا ،بھری مجلس میں اپنے شاگردوں  کی سعادتوں کے قصے سنانا ،اور ......اور....... اور جن کے لیے رات بھر خونِ جگر جلا کر مطالعے کی دکان سجائی گئی صبح ان ہی کو سوتے دیکھ کر غصہ پی جانا یہ سب وہ چیزیں ہیں جنہیں یاد کرکے مدتوں دل روئے گا، آنکھیں بہیں گی ،جگر تڑپے گا ؛لیکن کیا کرے کہ وہ "صاحبِ اوصاف حجازی" دوبارہ نہ آئے گا !کاش ! ہم نے ان کی قدر کی ہوتی کاش! ہم نے اس ہیرے کو جانا ہوتا کاش! اپنے دل کی سرد انگیٹھی کو اس کے شررِ آتش سے سلگایا ہوتا کاش! یہ "کاش" ہمیں فائدہ پہنچاسکتا ـ

دنیا بھر میں پھیلے مولانا کے خوشہ چینوں کو آپ کی زندگی یہ پیغام دے گئی کہ "یوں جیا اور مراجاتا ہے"
بات سے بات نکلتی جارہی ہے ،کیا کریں کہ مشفق استاد کی یادیں ہی اس قدر حسین ہیں کہ کھوئے رہنے کو جی چاہتا ہے ،اس" مرگِ ناگہاں "پر یقین  نہیں آتا، ہاں! وہ تھے ہی ایسے کہ انہیں یاد ہی کیا جاتا رہے، بعید نہیں کل کو اگر کوئی ہفتم ششم کا طالب علم گھنٹی بجنے پر دیوانہ وار لفٹ کی طرف دوڑ پڑے کہ مولانا آرہے ہیں!!!!!!!!!!اور یہ کہتے ہوئے واپس لوٹنا پڑے کہ

تلاش ِ گُم شدگاں میں نکل چلوں، لیکن

یہ سوچتا ہوں کہ کھویا ہُوا تو میں بھی ہوں

بس! سوائے اس کے اور کیا کہیں کہ

نظر نظر بیقرار سی ہے نفَس نفَس میں شرار سا ہے
میں جانتا ہوں کہ تم نہ آؤگے پھر بھی کچھ انتظار سا ہے
او جنت میں اپنا دائمی گھر بسانے والے یوسف!
کبھی تو آؤ ! کبھی تو بیٹھو! کبھی تو دیکھو! کبھی تو پوچھو
تمہاری بستی میں ہم فقیروں کا حال کیوں سوگوار سا ہے