Wednesday, June 28, 2017
Tuesday, May 16, 2017
ٹینشن اور ڈپریشن کی کہانی انسان کی زبانی اور اس کا علاجِ روحانی۔۔۔
ٹینشن اور ڈپریشن کی کہانی انسان
کی زبانی اور اس کا علاجِ روحانی۔۔۔
عرفان پالن پوری
میرے ایک دوست بیمار بیمار سے رہنے لگے۔ میں ان کی عیادت اور مزاج پُرسی کے لئے ان کے دولت کدے پر گیا۔۔۔
میں :- السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.
دوست:- وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
میں:- اوہ آپ تو ماشاءاللہ انتہائی حسین و جمیل، خوبصورت، بُلند قد و قامت، وجیہ چہرہ، خندہ پیشانی، سُرمگیں آنکھیں، عمدہ و خوشنما اور خوشبُودار پوشاک سے آراستہ پیراستہ، نعمت و آسائش کے پروردہ انسان تهے۔۔
اور آج تو آپ کی حالت قابلِ دید ہے۔۔
ایک خوبرو، سجیلا اور رعنا نوجوان جو کسی نازنین حسینہ کی طرح اپنے وقت کا بیشتر حصہ اپنے سجنے سنورنے میں صرف کرتا تھا آج وہ موٹا، بوسیدہ لباس زیب تن کئے ہوئے ہے، جو جسم نازونعم میں پلا بڑها تها آج وہ خِزاں رسیدہ پتوں کی طرح پیلا پڑگیا ہے، جو چہرہ رعنائی و زیبائی لئے ہوئے تها آج وہ مرجهایا سا نظر آرہا ہے، جو جسم عمدہ عطر اور پاکیزہ خوشبُو میں ڈوبا رہتا تها آج وہ " موتو قبل ان تموتوا " کی تصویر بناہوا ہے۔
یہ آپ کی کیا حالت بن گئی ہے؟ اُداس اُداس، باتوں میں چڑچڑاپن، کسی کام میں دل نہ لگنا، غصہ کا بڑھ جانا، نیند کا کم ہوجانا، خوف بیچینی گهبراہٹ، ہمت اور ارادے کا پست ہوجانا۔۔۔
دوست:- گهبرائی گهبرائی اور سہمی ہوئی آواز میں۔۔
آ...... آ...... آ..... پ کو کیا ب... ب....تاؤں۔۔ ڈاکٹروں اور حکیموں کے چکر لگا لگا کر عاجز آگیا۔۔ مرض کی کوئی تشخیص نہ ہوسکی البتہ اتنا بتایا گیا کہ آپ کو ڈپریشن اور ٹینشن ہے۔۔
ابھی چند روز قبل ایک عامل کو دکهایا۔۔
ان کے سامنے مکمل کیفیت بیان کی۔۔ عامل صاحب فرمانے لگے۔۔ اوہ انا للہ آپ کو تو " اوپرا " اثر ہوگیا ہے۔۔ ایک عامل یوں گویا ہوئے۔۔ اجی آپ پر کسی نے انتہائی درجے کا سخت ترین کالا جادو کردیا ہے۔۔ بس ایک ہی رٹ کہ کسی نے کچھ کرادیا ہے۔۔ ان کے اہلِ خانہ سے یہ سن کر کہ اگر کوئی مکهی بهن بهن کرتی ہے۔۔ تو یہ کہتے ہیں " کوئی جادو کررہا ہے " نہایت تکلیف ہوئی۔۔ میں انہیں تسلی دیتے ہوئے اور آیت شفاء پڑھ کر مریض کے لئے شفایابی کی دعا کرتے ہوئے رخصت ہوا۔۔
گهر آکر غور کرتا رہا، معاشرے پر طائرانہ نظر ڈالی تو ہر ایک شخص اس بیماری یعنی ٹینشن ڈپریشن کا شکار دکهائی دیا۔۔
جس سے پوچهو اجی کیا حال ہے؟ ایک ہی جواب " ڈپریشن میں مبتلا ہوں " کیوں؟ کسی کو کچھ نہیں معلوم۔۔ ڈپریشن کیا ہے؟ سوچا ایک حکیم صاحب سے پوچهوں، معلوم کرنے پر بتایا کہ اس خاموش مرض کی بنیادی وجوہات انسان میں " ناامیدی، بغض، حسد " کا پیدا ہونا ہے - قلب و دماغ متاثر ہوجاتے ہیں۔۔ جس کی وجہ سے انسان اپنی صلاحیتوں کو کهو بیٹھتا ہے۔۔ ڈاکٹروں کے پاس اس کا ایک ہی علاج ہے وہ یہ کہ ایسے انسان کو سکون اور نیند کی گولیاں دےکر اس کا عادی بنادیتے ہیں-
محترم قارئین! دورِ حاضر کا سب سے بڑا مسئلہ سکون اور اطمینانِ قلب کا فقدان ہے۔۔ آج انسان کو آسائش کے وہ تمام وسائل و سامان مہیا ہیں جن کا اس کے آباؤ اجداد نے کبهی تصور بهی نہ کیا ہوگا۔۔
یہ فراٹے بهرتی کاریں، یہ مِیلوں کا سفر مِنٹوں میں طے کرنے والے ہوائی جہاز، یہ نرم و نازک گدے، یہ فریج اور ائرکنڈیشن ، یہ ساؤنڈ پروف بالا خانے اور بنگلے، یہ بہترین اور عمدہ قسم کے مشک و عنبر اور عود سے معطر خُوشنما لباس و پیراہن اور پوشاک، یہ عمدہ عمدہ لذیذ و فرحت بخش مشروبات، یہ مختلف انواع و اقسام کے پهل فروٹ اور خورد و نوش کی اشیاء،
یہ ہمارے آباؤ اجداد کو کہاں حاصل تهیں۔ لیکن اس کے باوجود وہ ہم سے زیادہ مطمئن اور پُرسُکون تهے، اور ہم راحت کے تمام وسائل کے باوجود زیادہ مضطرب و پریشان ہیں۔۔۔
بلکہ کچھ صورتحال ایسی ہوگئی ہے کہ "جتنی زیادہ آسائشیں اتنی ہی زیادہ پریشانیاں "
چنانچہ مضطرب و پریشان دِل انسان نے سکونِ قلب کے لئے بے شمار غلط راستے اختیار کئے مگر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا-
کسی نے سوچا راحت و سکون اقتدار میں ہے، مگر اقتدار حاصل کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ یہاں تو پل بهر کا بهی سکون میسر نہیں۔۔ عبدالرحمٰن اموی جو اسپین میں پچاس سال تک مطلق العنان بادشاہ کی طرح حکومت کرتا رہا، مگر قریب المرگ اس کی زبان پر یہ جملہ تها،
" میں نے اپنی پوری زندگی میں صرف چودہ دن سکون کے دیکهے ہیں "
کوئی سمجھتا ہے کہ سکون دولت کی کثرت میں ہے لیکن ہم آئے دن سنتے رہتے ہیں کہ بڑے بڑے سرمایہ دار اپنے کاروباری مشاغل کی وجہ سے خواب آور گولیاں کهانے کے باوجود نیند کے لئے ترستے رہتے ہیں۔۔
کسی کا خیال ہے کہ اگر انسان کی جنسی خواہشات پوری ہوجائیں تو اسے سکون مل سکتا ہے چنانچہ یورپ میں جنسی خواہشات کے لئے زنا عام کردیا گیا۔ زناکاری اور لواطت کو قانونی تحفظ دے دیا گیا، باہمی رضامندی سے جب چاہیں، جہاں چاہیں، جس سے چاہیں، زنا ہوسکتا ہے، بیویوں کا آپس میں تبادلہ ہوسکتا ہے، عورتیں کرائے پر مل جاتی ہے۔۔
کسی کی سوچ یہ ہے کہ منشیات اور نشہ آور اشیاء کے استعمال سے سکون ملتا ہے لیکن کون نہیں جانتا کہ منشیات اور نشہ آور اشیاء نے لاکھوں افراد کو موت کے گھاٹ اُتار دیا ہے۔۔۔
یہ تمام ذرائع انسان کے ٹینشن اور ڈپریشن کو ختم نہیں کرسکتے۔۔ انسان سکون کی تلاش میں دیوانوں اور احمقوں کی طرح مارا مارا پهر رہا ہے،
اب اللہ کی طرف سے آواز آتی ہے۔۔
او میرے پیارے، چہیتے لاڈلے بندے!
تونے دولت کے انبار لگائے مگر تجهے سکون نہ مل سکا۔
تونے وزارتیں اور بادشاہتیں حاصل کرلیں
مگر تجهے سکون نہ مل سکا۔
تونے رقص و سُرور کی محفلیں سجائیں مگر تجهے سکون نہ مل سکا۔
تونے فحشی، عُریانی، اور بدکاری کی انتہا کردی مگر تجهے سکون نہ مل سکا۔
تونے جوئے اور سٹے کا بازار گرم کیا مگر تجهے سکون نہ مل سکا۔
تونے ساغر و مینا، شراب، چرس اور بهنگ کا استعمال کیا مگر تجهے سکون نہ مل سکا۔
تونے نت نئے فیشن اختیار کئے مگر تجهے سکون نہ مل سکا۔
تونے کهیلوں میں کمال حاصل کیا مگر تجهے سکون نہ مل سکا۔
تونے سمندروں اور صحراؤں کو چهان مارا مگر تجهے سکون نہ مل سکا۔
تو چاند ستاروں تک جاپہنچا اور خلا کی سیر کر آیا مگر تجهے سکون نہ مل سکا۔
تونے سائنسی تحقیقات سے حیرت انگیز مشینیں بنالیں مگر تجهے سکون نہ مل سکا -
آجا آجا !!! بهولے بهٹکے مسافر! میرے در پر آجا، میں تیرا رب ہوں، میں تیری ضروریات کا کفیل اور مالک ہوں، میں تجھے حصولِ سکون کی راہ دکهاؤں گا۔
او ظلوم و جہول انسان! تو بهی کتنا پگلا ہے، انگاروں پہ بیٹها ہے اور ٹهنڈک کا خواہاں ہے، گندگی کے ڈھیر پر بیٹھ کر چاہتا ہے کہ مجهے خوشبو کے دلنواز جهونکے آئیں، کانٹوں پر بستر بچھایا ہے اور چاہتا ہے کہ چبهن نہ ہو، تیل چهڑک کر تیلی جلاتا ہے اور چاہتا ہے کہ آگ بهی نہ لگے، اپنے خالق و مالک کو بهلا رکها ہے اور چاہتا ہے کہ مجھ پر
پریشانیاں نہ آئیں،
او میرے پاگل بندے! تجهے نہ سیم و زر کی چهناچهن سکون دے سکتی ہے،
نہ تخت و تاج تیرے قلب کے اضطراب کو دور کرسکتا ہے، نہ رقص و سرور،
میوزک اور گانے تیری قلبی بیماریوں کا شافی علاج ہے، نہ زناکاری اور فحاشی تجهے مطمئن رکھ سکتی ہے، نہ منشیات اور نشہ آور چیزیں تیرے قلب و دماغ کو سکون دے سکتی ہے،
اگر تجهے سکون ملا تو میری یاد کی چھاؤں میں ملے گا۔۔ میرے ذکر کی خُوشبُو سے ملے گا۔ تمہیں دل کا سکون اور سچی خوشی الله کے ذکر کے بغیر کبهی حاصل نہیں ہوسکتی،
نہ دنیا سے نہ دولت سے نہ گھر آباد کرنے سے
تسلی دل کو ہوتی ہے خدا کو یاد کرنے سے
جب تک تم گناہوں کو نہیں چهوڑو گے تمہاری پریشانیاں کبهی بھی دور نہیں ہونگی۔۔۔
متفرق اشعار
وه کہنے لگی نقاب میں بھی پہچان لیتے ہو ہزاروں کے بیچ میں
میں نے کہا تیری آنکھوں سے عشق شروع ہوا تھا ہزاروں کے بیچ میں
میرا سیدھا سادھا مزاج تھا مجھے عشق ہونے کی کیا خبر
تیرے اک تبسّم ناز نے میرے سارے ذوق بدل دئیے۔۔۔۔۔۔
با ہنر لوگ تھے الفاظ کے غازی نکلے
کم پڑھے،لکھےتر ے شہرمیں قاضی نکلے
کتنی ہوتی ہے بُری و ہم کی بیماری بھی
جن کو سمجھا تھا شرابی وہ نمازی نکلے.
وه بهی تڑپ نہ جائے تو اس عشق پہ لعنت..!!
هم سے فقط نگاہیں ملانے کی جرأت تو کرے..!!
Friday, March 10, 2017
Saturday, January 28, 2017
بہترین شعر
نگاہِ عیب گیری سے جو دیکھا اہلِ عالَم کو
کوئی کافر، کوئی فاسق، کوئی زندیقِ اکبر تھا
مگر جب ہوگیا دل احتسابِ نفس پر مائل
ہوا ثابت کہ ہر فرزندِ آدم مجھ سے بہتر تھا
Monday, January 2, 2017
یادوں کی چنگاریاں
یادوں کی چنگاریاں
زخمی نقوش از ابوسعد چارولیہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــ
پھر نظر میں پھول مہکے، دل میں پھر شمعیں جلیں
پھر تصور نے لیا اس بزم میں جانے کا نام
خدا جانے آج کیوں عبارت آرائی کو جی نہیں چاہ رہا ، دیکھ رہا ہوں کہ تعبیرات کے قافلے دل و دماغ سے یکسر غائب ہیں، اشعار کی بے وفائی کا دور دورہ ہے، قلم کاغذ لے کر بیٹھتا ہوں تو حسین تعبیرات کے بجائے مولانا کا حسین سراپا آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے :
مائل بہ فربہی جسم، دراز قد،سفید ریش،چوڑی پیشانی، اٹھتی ہوئی ناک ، آنکھوں پر لگی ہوئی عینک،داغہائے چیچک کے باوجود چہرے پر کشش،ہشاش بشاش مکھڑا، سر پر منکسر المزاج دوپلی ٹوپی ، جسم پر کشادہ کرتا اور سادی سی ازار یا تہہ بند، ہاتھ میں عصااور پاؤں میں جسامت کے مناسب نعلین،جب تک قوی ساتھ دیتے رہے رفتار ایک خاص قسم کا وقار لیے ہوئے رہی اور جوں جوں قوی ساتھ چھوڑتے رہے رفتار میں دھیماپن غالب آتا گیا،گمبھیر آواز کے مالک،بولتے نہیں تھے گل فشانی کرتے تھے، بول چال کے لیے ایک مخصوص لہجہ تھا جو سامع کو مسحور کیے دیتا، ہر ہر جز بالتفصیل بیان فرماتے، درس سے لے کر نجی گفتگو تک کہیں کوئی ایچ پیچ نہ تھی، خدام کو بھی ہر بات اتنی وضاحت سے فرماتے کہ کسی قسم کی غلط فہمی کی گنجائش نہ رہتی،درسگاہ میں دستی رومال سے بار بار سر پونچھنا گویا معمول تھا،ہاتھ بھی بکثرت ریش مبارک کی طرف اٹھتا،درس کی پابندی میں اپنی مثال آپ تھے، درس کا آغاز مسنون خطبے سے فرماتے، ہر فن کی کتابیں پڑھاتے ؛البتہ فقہ سے خصوصی دلچسپی تھی، اختلافِ مسالک اور ان کے دلائل نوکِ زبان تھے، جب درس شباب پر آتا تب تقریر کی سلاست و روانی پہ سوجان سے قربان ہونے کو جی چاہتا،عبارت کا تجزیہ کرتے وقت لغوی نحوی اور صرفی تحقیقی مولانا کے مزاج کا حصہ بن گیا تھا، ہر کام شروع کرتے وقت بسم اللہ پڑھتے بہت سی مرتبہ اس قدر زور سے پڑھتے کہ قریب بیٹھے تمام ہی شاگردان بآسانی سن لیتے اور یوں غیر شعوری طور پر تربیت ہوتی رہتی، مزاحیہ یا پُر لطف قصہ بیان فرمانے سے قبل ہنس پڑتے یا نیچے دیکھ کر ذو معنی انداز میں مسکرادیتے اور پھر دھیرے سے اس" مسکراہٹ "کا شانِ نزول بالتفصیل نازل ہوتا، اکابرین و اسلاف کے واقعات بیان کرکے ان سے محبت و عشق کی ترغیب کا اتنی کثرت سے معمول تھا کہ گویا سبق کا جزو بن گیا تھا، مبدأ فیاض سے حافظہ بھی غضب کا پایا تھا ،چند سالوں پہلے سنایا ہوا قصہ جب دوبارہ ارشاد فرماتے تو سابقہ تفصیلات سے سرِ مو انحراف نہ ہوتا، حضرت شیخ زکریا رح سے جنون کی حد تک عشق تھا ،جب ان کا ذکرِ خیر آجاتا تو طلبہ قلم بندکرکے بیٹھ جاتے کہ اب گھنٹہ بھر یہ محفل "صالحین"کے ذکر سے کشتِ زعفران بنی رہے گی ،طلبہ کی یہ ہمہ تن توجہ مولانا میں ایک روح پھونک دیتی اور پھر حضرت شیخ اور سہارنپور کا ایسا تذکرہ فرماتے کہ نادیدہ بندہ؛ دیکھا ہوا محسوس کرے اور دیدہ اپنے دیکھے ہوئے پر شرمندہ ہو کہ شیخ اور سہارنپور کا تذکرہ یوں بھی کیا جاسکتا ہے ،ایک ایک گلی، ایک ایک کوچہ اور ایک ایک عمارت کا نام نوکِ زبان ہوتا اور جھوم جھوم کے اپنے مخصوص انداز میں بے دھڑک بولتے چلے جاتے ،اسی محویت کے عالم میں گھنٹی بجتی تب طلبہ کو پتہ چلتا کہ شیخ زکریا کے عشق کی چنگاری ہمارے دل میں بھی فروزاں کرگئے، جامعہ کی تاریخ کے امین تھے یادِ ماضی کے اوراق سے " گاہے گاہے باز خواں ایں قصۂ پارینہ را " کے طور پر جب کبھی کوئی ایک آدھ صفحہ کھل جاتا تو پھرہر طرف " تازہ خواہی داشتن داغہائے سینہ را" کا ظہور ہوتا، عطر کی سنت سے حددرجہ لگاؤ اور محبت تھی،درس کے آغاز سے قبل عطر کی شیشیاں قطار اندر قطار ٹپائی پر رکھی اپنی قسمت کے کھلنے کی منتظر رہتیں، جونہی مولانا اٹھاکر ڈھکن کھولتے ساتھ ہی قسمت بھی کھل جاتی، چونکہ عام طور سے عطر طلبہ ہی رکھا کرتے تھے، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی شیشی سامنے کے سامنے دھری رہ گئی ہو ، ہر بوتل میں سے کچھ نہ کچھ حصہ ضرور لگاتے، کسی کا دل توڑنا پسند نہ فرماتے، ہمیشہ "آپ" سے خطاب فرماتے، اظہارِ خفگی کے لیے کبھی کبھار "تو" استعمال فرماتے تو طالب علم کانپ اٹھتا،پڑھنے کے زمانے سے ہی دعوت و تبلیغ سے خصوصی نسبت و تعلق تھا، کاروانِ تبلیغ کی سالانہ آمد کے موقع پر خصوصی اہتمام فرماتے، اکابرینِ تبلیغ سے ملاقات کے لیے خود ان کے پاس تشریف لے جاتے اور عجز و انکساری کا وہ نمونہ دیکھنے ملتا کہ قافلے کے خُرد حضرات شرم سے پانی پانی ہوجاتے اور یہ صرف تبلیغ کی حد تک موقوف نہ تھا؛کسی بھی بزرگ یا اہلِ علم کا بیان ہوتا تو خصوصیت سے محتاج بن کر آپ اس میں شرکت فرماتے، "کیف والی" نماز تھی، کبھی نفلوں میں قرات کرتے تو دیکھ کر ہی لگتا تھا کہ آدمی جنت کے مزے لے رہا ہے ، امام کے بالکل پیچھے صفِ اولی کی پابندی شہرۂ آفاق رہی، اواخرِ عمر کے علاوہ کبھی اس میں تخلف دیکھنے میں نہیں آیا ،ذکر و اذکار اور وظائف کے بڑے پابند تھے، مسنون دعائیں زندگی کا لازمی حصہ تھیں،دعا کرنے اور کروانے کا خاص معمول تھا،خود دعا کرتے تو لگتا کہ آج تو منواکر رہیں گے اور اپنے خُردوں سے دعا کے لیے کہتے یاچٹھی لکھتے تو نہایت انکساری سے دعا کی درخواست ہوتی اور دعاؤں کے جملے بھی بالتفصیل لکھ کر عنایت فرماتے،تواضع و انکساری اور سادگی کا یہ عالم تھا کہ بہتیرے شاگردوں نے مدتوں مولانا کے کپڑوں پر پیوند لگے دیکھے، جوتے ایسے ہوتے جیسے دیہات کا کوئی کاشتکار ہو، زہد و بے رغبتی کا یہ عالم تھا کہ بعض عقیدت مندوں نے مولانا کا نام ہی " ابوذر غفاری" رکھ چھوڑا تھا، سب سے زیادہ دل کو تڑپانے والی، گھنٹوں رلانے والی اور بار بار یاد آنے والی چیز ہے اپنے طلبہ پر شفقت! اب بھی ایسا محسوس ہورہا ہے کہ گویا اپنا سگا باپ داغِ مفارقت دے گیا ہو ویسے بھی مولانا طلبہ کے درمیان "باوا" کے نام سے مشہور تھے، اپنے شاگردوں کی غفلت و کوتاہی سے صرفِ نظر کرنا، ان کی خرمستیوں کو سہہ جانا، کھلی آنکھوں شرارت کرتے دیکھ لینے کے باوجود ایک لفظ نہ کہنا، چھوٹی چھوٹی بات پر اپنے شاگردوں کی حوصلہ افزائی کرنا ، اپنے خُردوں کا اہتمام سے شکریہ ادا کرنا ،بھری مجلس میں اپنے شاگردوں کی سعادتوں کے قصے سنانا ،اور ......اور....... اور جن کے لیے رات بھر خونِ جگر جلا کر مطالعے کی دکان سجائی گئی صبح ان ہی کو سوتے دیکھ کر غصہ پی جانا یہ سب وہ چیزیں ہیں جنہیں یاد کرکے مدتوں دل روئے گا، آنکھیں بہیں گی ،جگر تڑپے گا ؛لیکن کیا کرے کہ وہ "صاحبِ اوصاف حجازی" دوبارہ نہ آئے گا !کاش ! ہم نے ان کی قدر کی ہوتی کاش! ہم نے اس ہیرے کو جانا ہوتا کاش! اپنے دل کی سرد انگیٹھی کو اس کے شررِ آتش سے سلگایا ہوتا کاش! یہ "کاش" ہمیں فائدہ پہنچاسکتا ـ
دنیا بھر میں پھیلے مولانا کے خوشہ چینوں کو آپ کی زندگی یہ پیغام دے گئی کہ "یوں جیا اور مراجاتا ہے"
بات سے بات نکلتی جارہی ہے ،کیا کریں کہ مشفق استاد کی یادیں ہی اس قدر حسین ہیں کہ کھوئے رہنے کو جی چاہتا ہے ،اس" مرگِ ناگہاں "پر یقین نہیں آتا، ہاں! وہ تھے ہی ایسے کہ انہیں یاد ہی کیا جاتا رہے، بعید نہیں کل کو اگر کوئی ہفتم ششم کا طالب علم گھنٹی بجنے پر دیوانہ وار لفٹ کی طرف دوڑ پڑے کہ مولانا آرہے ہیں!!!!!!!!!!اور یہ کہتے ہوئے واپس لوٹنا پڑے کہ
تلاش ِ گُم شدگاں میں نکل چلوں، لیکن
یہ سوچتا ہوں کہ کھویا ہُوا تو میں بھی ہوں
بس! سوائے اس کے اور کیا کہیں کہ
نظر نظر بیقرار سی ہے نفَس نفَس میں شرار سا ہے
میں جانتا ہوں کہ تم نہ آؤگے پھر بھی کچھ انتظار سا ہے
او جنت میں اپنا دائمی گھر بسانے والے یوسف!
کبھی تو آؤ ! کبھی تو بیٹھو! کبھی تو دیکھو! کبھی تو پوچھو
تمہاری بستی میں ہم فقیروں کا حال کیوں سوگوار سا ہے