ٹینشن اور ڈپریشن کی کہانی انسان
کی زبانی اور اس کا علاجِ روحانی۔۔۔
عرفان پالن پوری
میرے ایک دوست بیمار بیمار سے رہنے لگے۔ میں ان کی عیادت اور مزاج پُرسی کے لئے ان کے دولت کدے پر گیا۔۔۔
میں :- السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.
دوست:- وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
میں:- اوہ آپ تو ماشاءاللہ انتہائی حسین و جمیل، خوبصورت، بُلند قد و قامت، وجیہ چہرہ، خندہ پیشانی، سُرمگیں آنکھیں، عمدہ و خوشنما اور خوشبُودار پوشاک سے آراستہ پیراستہ، نعمت و آسائش کے پروردہ انسان تهے۔۔
اور آج تو آپ کی حالت قابلِ دید ہے۔۔
ایک خوبرو، سجیلا اور رعنا نوجوان جو کسی نازنین حسینہ کی طرح اپنے وقت کا بیشتر حصہ اپنے سجنے سنورنے میں صرف کرتا تھا آج وہ موٹا، بوسیدہ لباس زیب تن کئے ہوئے ہے، جو جسم نازونعم میں پلا بڑها تها آج وہ خِزاں رسیدہ پتوں کی طرح پیلا پڑگیا ہے، جو چہرہ رعنائی و زیبائی لئے ہوئے تها آج وہ مرجهایا سا نظر آرہا ہے، جو جسم عمدہ عطر اور پاکیزہ خوشبُو میں ڈوبا رہتا تها آج وہ " موتو قبل ان تموتوا " کی تصویر بناہوا ہے۔
یہ آپ کی کیا حالت بن گئی ہے؟ اُداس اُداس، باتوں میں چڑچڑاپن، کسی کام میں دل نہ لگنا، غصہ کا بڑھ جانا، نیند کا کم ہوجانا، خوف بیچینی گهبراہٹ، ہمت اور ارادے کا پست ہوجانا۔۔۔
دوست:- گهبرائی گهبرائی اور سہمی ہوئی آواز میں۔۔
آ...... آ...... آ..... پ کو کیا ب... ب....تاؤں۔۔ ڈاکٹروں اور حکیموں کے چکر لگا لگا کر عاجز آگیا۔۔ مرض کی کوئی تشخیص نہ ہوسکی البتہ اتنا بتایا گیا کہ آپ کو ڈپریشن اور ٹینشن ہے۔۔
ابھی چند روز قبل ایک عامل کو دکهایا۔۔
ان کے سامنے مکمل کیفیت بیان کی۔۔ عامل صاحب فرمانے لگے۔۔ اوہ انا للہ آپ کو تو " اوپرا " اثر ہوگیا ہے۔۔ ایک عامل یوں گویا ہوئے۔۔ اجی آپ پر کسی نے انتہائی درجے کا سخت ترین کالا جادو کردیا ہے۔۔ بس ایک ہی رٹ کہ کسی نے کچھ کرادیا ہے۔۔ ان کے اہلِ خانہ سے یہ سن کر کہ اگر کوئی مکهی بهن بهن کرتی ہے۔۔ تو یہ کہتے ہیں " کوئی جادو کررہا ہے " نہایت تکلیف ہوئی۔۔ میں انہیں تسلی دیتے ہوئے اور آیت شفاء پڑھ کر مریض کے لئے شفایابی کی دعا کرتے ہوئے رخصت ہوا۔۔
گهر آکر غور کرتا رہا، معاشرے پر طائرانہ نظر ڈالی تو ہر ایک شخص اس بیماری یعنی ٹینشن ڈپریشن کا شکار دکهائی دیا۔۔
جس سے پوچهو اجی کیا حال ہے؟ ایک ہی جواب " ڈپریشن میں مبتلا ہوں " کیوں؟ کسی کو کچھ نہیں معلوم۔۔ ڈپریشن کیا ہے؟ سوچا ایک حکیم صاحب سے پوچهوں، معلوم کرنے پر بتایا کہ اس خاموش مرض کی بنیادی وجوہات انسان میں " ناامیدی، بغض، حسد " کا پیدا ہونا ہے - قلب و دماغ متاثر ہوجاتے ہیں۔۔ جس کی وجہ سے انسان اپنی صلاحیتوں کو کهو بیٹھتا ہے۔۔ ڈاکٹروں کے پاس اس کا ایک ہی علاج ہے وہ یہ کہ ایسے انسان کو سکون اور نیند کی گولیاں دےکر اس کا عادی بنادیتے ہیں-
محترم قارئین! دورِ حاضر کا سب سے بڑا مسئلہ سکون اور اطمینانِ قلب کا فقدان ہے۔۔ آج انسان کو آسائش کے وہ تمام وسائل و سامان مہیا ہیں جن کا اس کے آباؤ اجداد نے کبهی تصور بهی نہ کیا ہوگا۔۔
یہ فراٹے بهرتی کاریں، یہ مِیلوں کا سفر مِنٹوں میں طے کرنے والے ہوائی جہاز، یہ نرم و نازک گدے، یہ فریج اور ائرکنڈیشن ، یہ ساؤنڈ پروف بالا خانے اور بنگلے، یہ بہترین اور عمدہ قسم کے مشک و عنبر اور عود سے معطر خُوشنما لباس و پیراہن اور پوشاک، یہ عمدہ عمدہ لذیذ و فرحت بخش مشروبات، یہ مختلف انواع و اقسام کے پهل فروٹ اور خورد و نوش کی اشیاء،
یہ ہمارے آباؤ اجداد کو کہاں حاصل تهیں۔ لیکن اس کے باوجود وہ ہم سے زیادہ مطمئن اور پُرسُکون تهے، اور ہم راحت کے تمام وسائل کے باوجود زیادہ مضطرب و پریشان ہیں۔۔۔
بلکہ کچھ صورتحال ایسی ہوگئی ہے کہ "جتنی زیادہ آسائشیں اتنی ہی زیادہ پریشانیاں "
چنانچہ مضطرب و پریشان دِل انسان نے سکونِ قلب کے لئے بے شمار غلط راستے اختیار کئے مگر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا-
کسی نے سوچا راحت و سکون اقتدار میں ہے، مگر اقتدار حاصل کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ یہاں تو پل بهر کا بهی سکون میسر نہیں۔۔ عبدالرحمٰن اموی جو اسپین میں پچاس سال تک مطلق العنان بادشاہ کی طرح حکومت کرتا رہا، مگر قریب المرگ اس کی زبان پر یہ جملہ تها،
" میں نے اپنی پوری زندگی میں صرف چودہ دن سکون کے دیکهے ہیں "
کوئی سمجھتا ہے کہ سکون دولت کی کثرت میں ہے لیکن ہم آئے دن سنتے رہتے ہیں کہ بڑے بڑے سرمایہ دار اپنے کاروباری مشاغل کی وجہ سے خواب آور گولیاں کهانے کے باوجود نیند کے لئے ترستے رہتے ہیں۔۔
کسی کا خیال ہے کہ اگر انسان کی جنسی خواہشات پوری ہوجائیں تو اسے سکون مل سکتا ہے چنانچہ یورپ میں جنسی خواہشات کے لئے زنا عام کردیا گیا۔ زناکاری اور لواطت کو قانونی تحفظ دے دیا گیا، باہمی رضامندی سے جب چاہیں، جہاں چاہیں، جس سے چاہیں، زنا ہوسکتا ہے، بیویوں کا آپس میں تبادلہ ہوسکتا ہے، عورتیں کرائے پر مل جاتی ہے۔۔
کسی کی سوچ یہ ہے کہ منشیات اور نشہ آور اشیاء کے استعمال سے سکون ملتا ہے لیکن کون نہیں جانتا کہ منشیات اور نشہ آور اشیاء نے لاکھوں افراد کو موت کے گھاٹ اُتار دیا ہے۔۔۔
یہ تمام ذرائع انسان کے ٹینشن اور ڈپریشن کو ختم نہیں کرسکتے۔۔ انسان سکون کی تلاش میں دیوانوں اور احمقوں کی طرح مارا مارا پهر رہا ہے،
اب اللہ کی طرف سے آواز آتی ہے۔۔
او میرے پیارے، چہیتے لاڈلے بندے!
تونے دولت کے انبار لگائے مگر تجهے سکون نہ مل سکا۔
تونے وزارتیں اور بادشاہتیں حاصل کرلیں
مگر تجهے سکون نہ مل سکا۔
تونے رقص و سُرور کی محفلیں سجائیں مگر تجهے سکون نہ مل سکا۔
تونے فحشی، عُریانی، اور بدکاری کی انتہا کردی مگر تجهے سکون نہ مل سکا۔
تونے جوئے اور سٹے کا بازار گرم کیا مگر تجهے سکون نہ مل سکا۔
تونے ساغر و مینا، شراب، چرس اور بهنگ کا استعمال کیا مگر تجهے سکون نہ مل سکا۔
تونے نت نئے فیشن اختیار کئے مگر تجهے سکون نہ مل سکا۔
تونے کهیلوں میں کمال حاصل کیا مگر تجهے سکون نہ مل سکا۔
تونے سمندروں اور صحراؤں کو چهان مارا مگر تجهے سکون نہ مل سکا۔
تو چاند ستاروں تک جاپہنچا اور خلا کی سیر کر آیا مگر تجهے سکون نہ مل سکا۔
تونے سائنسی تحقیقات سے حیرت انگیز مشینیں بنالیں مگر تجهے سکون نہ مل سکا -
آجا آجا !!! بهولے بهٹکے مسافر! میرے در پر آجا، میں تیرا رب ہوں، میں تیری ضروریات کا کفیل اور مالک ہوں، میں تجھے حصولِ سکون کی راہ دکهاؤں گا۔
او ظلوم و جہول انسان! تو بهی کتنا پگلا ہے، انگاروں پہ بیٹها ہے اور ٹهنڈک کا خواہاں ہے، گندگی کے ڈھیر پر بیٹھ کر چاہتا ہے کہ مجهے خوشبو کے دلنواز جهونکے آئیں، کانٹوں پر بستر بچھایا ہے اور چاہتا ہے کہ چبهن نہ ہو، تیل چهڑک کر تیلی جلاتا ہے اور چاہتا ہے کہ آگ بهی نہ لگے، اپنے خالق و مالک کو بهلا رکها ہے اور چاہتا ہے کہ مجھ پر
پریشانیاں نہ آئیں،
او میرے پاگل بندے! تجهے نہ سیم و زر کی چهناچهن سکون دے سکتی ہے،
نہ تخت و تاج تیرے قلب کے اضطراب کو دور کرسکتا ہے، نہ رقص و سرور،
میوزک اور گانے تیری قلبی بیماریوں کا شافی علاج ہے، نہ زناکاری اور فحاشی تجهے مطمئن رکھ سکتی ہے، نہ منشیات اور نشہ آور چیزیں تیرے قلب و دماغ کو سکون دے سکتی ہے،
اگر تجهے سکون ملا تو میری یاد کی چھاؤں میں ملے گا۔۔ میرے ذکر کی خُوشبُو سے ملے گا۔ تمہیں دل کا سکون اور سچی خوشی الله کے ذکر کے بغیر کبهی حاصل نہیں ہوسکتی،
نہ دنیا سے نہ دولت سے نہ گھر آباد کرنے سے
تسلی دل کو ہوتی ہے خدا کو یاد کرنے سے
جب تک تم گناہوں کو نہیں چهوڑو گے تمہاری پریشانیاں کبهی بھی دور نہیں ہونگی۔۔۔